ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 340 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 340

340 آپ کسی کی بات سن رہے ہوں اور کوئی اور بات منہ سے کر رہے ہوں تو جو آپ سن رہے ہیں نہ وہ سمجھ سکتے ہیں نہ اسے یاد کر سکتے ہیں۔تو وحی کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و سلم کو یہ دعا سکھایا جاتا کہ یہ دعا کیا کرو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ذہنی کوشش کا وحی کو محفوظ کرنے سے کوئی علاقہ نہیں تھا وہ ازخود اترتی تھی اور نقش بنکر دائمی نقش بنکر جمتی چلی جاتی تھی۔اور توجہ اس طرف دیتے یا نہ دیتے خدا کی تقدیر نے اس کو بہر حال محفوظ کرنا تھا۔پس فرمایا کہ فارغ وقت میں یہ کیا کر کہ مجھ سے اور دعائیں مانگا کر اور یہ کہا کر کہ اور بھی علم نازل فرما اور جو علم ہے بجائے اس کے کہ میں اسے کھو دوں میرا علم بڑھا دے کیونکہ جو بات بھول جائے وہ حاصل کیا ہوا علم انسان کھو دیتا ہے تو زدن منما میں یہ جتایا کہ تیرے علم کو کھونے کا تو سوال ہی کوئی نہیں۔ہم جو ذمہ دار ہو گئے ہیں۔ہاں تو مزید مانگا کر۔حضرت بانی سلسلہ کو سکھائی گئی دعا اس دعا کے ضمن میں ایک اور دعا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہاما" سکھائی گئی وہ بھی آپ کو بتاتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ اللهم أرِنِي حَقَائِقَ الْأَشْيَاءِ اے میرے اللہ مجھے اشیاء کی حقیقتیں بتا۔یعنی ان کے اندر جو گہرے راز ہیں وہ سمجھا۔میں بالعموم قرآن کریم کی اس دعا کے ساتھ اس دعا کو ملا کر کرتا ہوں اور خصوصا اس وقت جب کہ کسی قسم کی رہنمائی کی خاص ضرورت ہو اور میرا یہ تجربہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بہت سے ایسے مطالب پر آگاہی فرماتا ہے جس کی طرف انسان کا اپنا ذہن اپنی کوشش سے جا نہیں سکتا۔الہام تو نہیں ہوتا لیکن اس طرح خدا تعالٰی نکتے دماغ میں اچانک ڈالتا ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔اس جماعت کو بھی اس قرآنی دعا سے استفادہ کرنا چاہیے اور ہمارے طالب علموں کو خاص طور پر اس دعا کو جو چھوٹی سی دعا ہے ایک چھوٹا سا فقرہ ہے۔وَقُلُ آبِ زِدْنِ عِلْمًا اس کو پڑھتے رہنا چاہیے۔اس کے نتیجہ میں انکی توجہ اس امر کی طرف بھی مبذول ہوتی رہنی چاہیے کہ اصل علم کلام الہی ہے۔دوسرا دنیا کا جو علم ہے وہ ثانوی علم ہے۔یہاں قرآن کریم کی وحی سے متعلق علم کا لفظ استعمال ہوا ہے۔چنانچہ طالب علم جب یہ دعا مانگیں