ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 339 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 339

339 ملے گی جس کو جس طرح وہ دعا کی گئی تھی اسی جذبہ کے ساتھ آپ جب دعا کریں گے تو انشاء اللہ تعالٰی قبولیت دعا کے عظیم الشان نظارے دیکھیں گے۔علم بڑھنے کی دعا سکھائی قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و سلم کو اتنی دعائیں خدا تعالی نے خود سکھاتی ہیں کہ اور کسی نبی کے ذکر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوئی دعائیں اس کثرت سے نہیں ملتیں۔ایک موقعہ پر فرمایا۔وَلَا تَعْجَلُ بِالْقُرْآنِ مِن قَبْلِ أَن يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهِ : وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا (سورۃ طہ : (۱۱۵) اے میرے بندے تو جب وحی نازل ہوا کرے تو جلدی جلدی اسے دہرانے کی کوشش نہ کیا کر کہ کہیں بھول نہ جائے وقل رب زِدْنِي عِلْمًا اور یہ کہا کر کہ اے میرے رب میرا علم بڑھاتا چلا جا۔اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معصومیت کا بھی پتہ چلتا ہے اور خدا تعالٰی کے کلام کو کس طرح دیکھتے تھے اس کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔وحی نازل کرنا بھی خدا کا کام ہے اور وحی کو محفوظ کرنا بھی خدا کا کام ہے۔مگر جس کو کسی چیز سے بے انتہا محبت ہو اور اسے وہ سنبھالنا چاہے۔اسے یقین بھی ہو کہ یہ چیز سنبھل جائے گی تب بھی وہ اپنی طرف سے بہت کوشش کرتا ہے اور جلدی جلدی ہاتھ پاؤں مار کر اسے سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے۔پس یہ وہ نقشہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا کھینچا گیا۔جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی آپ تیزی کے ساتھ زبان چلاتے تھے اور اس وحی کو دہراتے چلے جاتے تھے تاکہ کوئی بھی لفظ کوئی نکتہ بھی ادھر سے ادھر نہ ہو۔تب اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ فرمایا کہ تجھے یہ محنت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ہاں اس عرصہ میں تو یہ دعا کیا کر وقل رب زِدْنِي عِلْمًا اے میرے اللہ میرا علم پڑھا۔اب یہ جو دعا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کا جو نظام حفظ تھا وہ عام نظام حفظ جیسا نہیں تھا۔بلکہ جہاں تک وحی کا تعلق ہے ہو سکتا ہے کہ باقی انبیاء کو بھی یہی امتیاز حاصل ہو کہ وحی اس رنگ میں نازل ہوتی ہے کہ وہ از خود ذہن پر نقش ہو جاتی ہے اور اسے توجہ سے سن کر یاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دعا وہ سکھائی گئی ہے جو بالکل اور ہے کہ اے میرے رب میرا علم بڑھا دے۔