ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 326
326 کہلا سکتی ہے مگر "ال" نعیم کے اندر ایک اور معنی پیدا کر دیتا ہے یعنی وہ جنت جو ان لوگوں کی جنت ہے جن کو کامل نعمت عطا ہوئی اور کامل نعمت انبیاء کو عطا ہوتی ہے۔پس ہر گز بعید نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ان معنوں میں یہ دعا کی ہو کہ مجھے جنت میں بھی انبیا کے زمرے میں رکھنا اور وہ جنت عطا کرنا جس میں مجھ سے کامل طور پر لانعام یافتہ لوگ شامل ہوں۔پس آپ دیکھیں کہ اس دعا کا سورۂ فاتحہ کی اس دعا سے کتنا گہرا رابطہ ہے کہ اخدنا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتُ عَلَيْهِمْ بس من عَلَيْهِ میں شامل ہوتا ہے تو منعم علیه گروه کی وہ ساری دعائیں پیش نظر رہنی چاہیں جو ہماری زندگی کے مختلف حالات پر اطلاق پاتی چلی جاتی ہیں۔پھر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام عرض کرتے ہیں : واغفر لابي إِنَّهُ كان من الضالین کہ اے میرے رب! میرے باپ کو بھی بخش دیتا۔میں جانتا ہوں کہ وہ گمراہ تھا، اس کے باوجود تجھ سے یہ عرض کر رہا ہوں۔اس کے متعلق یہ ذکر گزر چکا ہے کہ حضرت ابراہیم نے چونکہ آزر سے یہ وعدہ کر لیا تھا کہ میں تیرے لئے ضرور دعا کروں گا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بطور خاص یہ اجازت فرمائی کہ وہ اپنے اس وعدے کو پورا کریں لیکن آخر پر خدا نے ایک وقت پر آپ پر یہ ظاہر فرما دیا کہ وہ صرف گمراہ نہیں تھا بلکہ میرا دشمن تھا اور یہ بتانا ہی کافی تھا۔اس کے بعد پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کے لئے کبھی دعا نہ کی۔وَلَا تُخَر يوم يُبْعَثُونَ۔اور جس دن لوگوں کو اٹھایا جائے گا اس دن مجھے رسوا نہ کرنا۔یوم لا ينفع مال ولا بنون جبکہ انسان کے کام نہ اس کے مال آئیں گے نہ اس کے الا منَ الَّى اللَّهُ بِقَلْبٍ سليم ایک ہی بات کام آئے گی کہ خدا کے حضور کوئی صاف دل لیکر حاضر ہو۔پاک دل لے کر حاضر ہو۔ایسا دل لے کر حاضر ہو جو خدا کے حضور جھکا رہنے والا ہو اور اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر بیٹھا ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں اسی حالت میں اس دنیا سے بلائے کہ جب حضرت ابراہیم کی یہ دعا ہمارے حق میں بھی یہ گواہی دے کہ إِلَّا مَنْ أَنَّ اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيم ہم ان لوگوں میں شمار ہوں جو بچے۔