ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 322 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 322

322 لئے فکر نہ کیا کرو۔اپنی آئندہ آنے والے نسلوں کی بھی فکر کیا کرو۔ساری جماعت کا معاشرہ پاکیزہ بنانے کی دعا اس مضمون پر غور کر کے اگر آپ یہ دعا کریں تو آپ کے گھر کے ماحول کا ایک بہت ہی دلکش نقشہ آنکھوں کے سامنے ابھرتا ہے۔بعض میاں بیوی ایک دوسرے سے راضی ہوتے ہیں مگر ان کے آپس میں راضی ہونے کی بناء تقویٰ نہیں ہوتی۔ایسے میاں بیوی بھی تو ایک دوسرے سے راضی ہوتے ہیں جن کے گھر میں Disco چل رہا ہے۔گانے بجانے ہو رہے ہیں۔کئی قسم کی بیہودگیاں ہو رہی ہیں۔بظاہر وہ گھر جنت ہے لیکن اس دعا کے آخری حصے نے بتا دیا کہ وہ جنت محض ایک فرضی اور خیالی جنت ہے اور عارضی حیثیت کی ہے کیونکہ ایسے لوگوں کی اولادیں پھر متقی نہیں بن سکتیں۔ایسے لوگوں کی آنے والی نسلیں ان کے لئے حقیقی معنوں میں آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان مہیا نہیں کر سکتیں تو وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إماما نے صرف مستقبل کی بات نہیں کی بلکہ اس زمانے میں جو ہمیں نصیب ہوا ہے ہمارے گھروں کا ایسا نقشہ بھی کھینچ دیا جس میں تقویٰ کی باتیں ہوں۔اگر تقویٰ کی باتیں نہ ہوں تو اگلی نسل کو تقویٰ کہاں سے نصیب ہو جائے گا۔پس آنکھوں کی ٹھنڈک وہ جس کا تقویٰ سے گہرا تعلق ہو۔اس کے لئے دعا سکھائی گئی ہے اور اس دعا سے غفلت کے نتیجے میں میں سمجھتا ہوں بہت سے گھر بے وجہ مصیبتوں اور آزمائشوں میں مبتلا ہیں۔سنجیدگی سے ہر وہ خاوند اور ہر وہ بیوی جو اپنے لئے یہ دعا کرتی ہے ان کو میں یقین دلاتا ہوں کہ اس دعا کے نتیجے میں ان کے گھروں کے نقشے بدل جائیں گے اور ساری جماعت کا معاشرہ اتنا پاکیزہ ہو جائے گا اور اتنا بلند ہو جائے گا کہ واقعی وہ اس بات کا مستحق ہو گا کہ بنی نوع انسان کی راہنمائی کر سکے اور ہم ساری دنیا کو جنت دینے والے بن جائیں۔اللہ تعالی احباب جماعت کو توفیق عطا فرمائے۔حضرت ابراہیم کے دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی دعا پھر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا سورۃ الشعراء آیات ۸۴ تا ۹۰ میں بیان فرمائی گئی۔وہ دعا یہ ہے کہ رت حب اي حكمًا وَ الْحِقْنِي بِالصَّلِحِينَ۔