ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 311
311 قل رب انا لي منزلاً مبرحا اور پھر یہ دعا کرنا کہ اے میرے رب مجھے مبارک منزل پر اتارنا وانتَ خَيْرُ الْمُنزل اور تو سب مہمان نوازوں پرا سے اور اتارنے والوں سے بہتر مہمان نواز اور بہترا تا رنے والا ہے۔یہ دعا ہجرت کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہے۔اس سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اس دعا کا ذکر گزر چکا ہے جو آپ کو ہجرت کے متعلق سکھائی گئی تھی۔یہ دعا حضرت نوح کی دعا ہے کہ منزلاً مبرا ہو۔جہاں میں جاؤں دنیاوی اغراض سے نہ جاؤں بلکہ جو کچھ بھی مجھے ملے تیری طرف سے ملے اور برکتیں عطا ہوں۔وہ مہاجرین جو آج مختلف ظلم کی جگہوں سے ہجرت کر رہے ہیں یا کل کریں گے یا آئندہ زمانوں میں کریں گے ان کو ہمیشہ یہ دعا پیش نظر رکھنی چاہئیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم والی دعا تو بہت ہی جامع و مانع دعا ہے اس کے علاوہ یہ دعا بھی خاص حالات پر اطلاق پاتی ہے اور جو مہاجرین یہ دعا نہیں بھی کر سکے ان کو اب یہ دعا اپنی دعاؤں میں شامل کر لینی چاہیے تاکہ ان کی منزل مبارک ہو اور خدا ہی ہے جو ان کی دیکھ بھال کرنے والا ہو اور ان کی مہمانی کرنے والا ہو۔اس دعا کے بغیر کسی قوم کو حقیقی میزبانی کا حق عطا نہیں ہو سکتا اور دنیا والے جو میزبانی یا مہمانی کرتے ہیں وہ ایک عارضی سی حیثیت رکھتی ہے۔اس میں برکت نہیں ہوتی۔پس مختلف علاقوں میں جانے والے احمدی مهاجرین کو انہیں مسائل کا سامنا ہے۔بعض قو میں بعض دوسری قوموں کے مقابل پر زیادہ فراخ دل ہیں لیکن ہر جگہ اس معاملے میں کئی قسم کی الجھنیں پیدا ہو رہی ہیں اور ویسے بھی بہت سے غیور احمدی ایسے ہیں جن کے دلوں پر بوجھ ہے کہ ہم جو غیر قوموں کی مدد پر بیٹھے ہوئے، جب تک ہمیں کام کی اجازت نہ ملے گویا ان کی خیرات پر پل رہے ہیں ان کے لئے یہ دعا بہت ہی اہمیت رکھتی ہے۔اگر یہ دعا کر کے چلتے تو ان کے دل میں ہمیشہ یہ یقین رہتا کہ میری آؤ بھگت کرنے والا در اصل خدا ہی ہے اور میری دعا کی قبولیت کے نتیجے میں اللہ تعالٰی نے یہ سامان فرمائے ہیں اور اس طرح وہ کسی قسم کی نفسیاتی الجھن کا شکار نہ ہوتے اور پھر اس مدد کے باوجود بھی جو مشکلات ہیں اور حالات میں بعض دفعہ کئی قسم کی الجھنیں پیدا ہو جاتی ہیں روز مرہ کی زندگی میں بے برکتی بھی ہوتی