ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 295 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 295

295 چھاؤں میں آپ نے امان حاصل کی لیکن پھر ایک کیڑا بھیج دیا جس نے اس کی جڑیں کھا لیں اور وہ درخت کھو کھلا ہو کر زمین پر جا پڑا تب حضرت یونس نے ایک اور شکوہ کیا کہ یہ کیا واقعہ ہو گیا کہ ایک چھاؤں تھوڑی سی تھی اس سے بھی میں محروم رہ گیا۔اللہ تعالٰی نے پھر ان کو کہا کہ یہ درخت تو نے نہیں لگایا تھا اور اس ایک درخت کے مرنے پر تجھے اتنا افسوس ہے جس کے لگانے میں تیری محنت کا کوئی دخل نہیں اور مجھ سے یہ توقع رکھتا ہے کہ لاکھ سے زائد بندے جو میں نے پیدا کئے ان کو آنا " فانا تباہ کر دوں۔تب حضرت یونس کو یا یونا کو نصیحت حاصل ہوئی۔حضرت یونس کے بارے میں قرآنی بیان قرآن کریم اس سے بالکل مختلف روایت بیان فرماتا ہے۔سب سے پہلے یہ کہ قرآن کریم میں نینوا بستی کا کوئی ذکر نہیں اور مفسرین نے بائبل کو پڑھ کر اندازہ لگایا ہے کہ بستی نینوا ہی ہوگی۔بعضوں کا خیال ہے ذوالنون یعنی نون والا جو کہا گیا ہے اس سے نینوا بستی والا مراد ہے حالانکہ نون مچھلی کو کہتے ہیں اور صاحب حوت بھی آپ کو قرار دیا گیا ہے۔اس لئے پہلی بات تو یہ ہے کہ نینوا کا کوئی ذکر نہیں۔دوسرے ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اگر نینوا سے ناراض ہو کر آپ واپس جائیں تو سات آٹھ سو میل دور جا کر یافا کی بندرگاہ سے کیوں جہاز پکڑیں۔آپ کے ساتھ ہی دریائے دجلہ تھا۔نینوا کی بستی دریائے دجلہ کے ایک کنارے پر واقع ہے، وہاں سے کشتی لے کر آپ جو بھی سفر اختیار کرنا چاہتے اختیار کر سکتے تھے اس لئے یہ بات بھی قرین قیاس نہیں ہے۔پس بائبل کے بیان کے بر عکس قرآن کریم نے اول تو اس بستی کا ذکر نہیں فرمایا دوسرے جو واقعہ بیان فرمایا ہے وہ بہت ہی معقول اور مربوط ہے اور اس میں کسی قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں۔خصوصیت کے ساتھ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم نے آپ کے تین دن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہنے کا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔یہ فرمایا ہے کہ مچھلی نے آپ کو نگلا اور یہ بھی فرمایا ہے کہ آپ نے اس تکلیف اور دکھ کی حالت میں یہ دعا کی ہے اور ساتھ ہی یہ بتا دیا کہ مچھلی نے اگل دیا، لیکن یہ کہیں ذکر نہیں کہ تین دن اور تین رات آپ مچھلی کے پیٹ میں رہے تھے۔پس یہ زیادہ قرین قیاس ہے کہ آپ کچھ