ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 26
26 ہات اور بھی تھی کہ وہ انکا نام مجھے یاد نہیں۔جمعی تر قسم کی چیزیں ہیں۔جو درختوں کے اوپر آوازیں نکالتے ہیں، خاص قسم کی کرچ کرچ کی سی آواز میں بھی نکلا کرتی ہیں لیکن جو بنگلہ دیش میں آوازیں تھیں وہ گھنٹیوں سے مشابہ تھیں اور بعد میں مجھے علم ہوا کہ ایک ایسا INSECT' حشرات الارض میں سے ایک قسم ایسی ہے جس کا نام ہی انہوں نے گھٹی والا رکھا ہوا ہے۔تو یوں لگتا تھا گھنٹی بچی ہے۔ادھر روشنیاں یک دفعہ جلتی اور یک دفعہ بجھتی تھیں اور ادھر یہ گھنٹیاں ایک دفعہ چلتی اور یک وفعہ ختم ہو جاتی تھیں اور ان کی ٹن ٹن ٹن ٹن کی آواز اس رات کے وقت ایک حیرت انگیز اثر پیدا کرنے والا تجربہ تھا جس پر میں غور کرتا رہا اور حیران تھا کہ کس طرح خدا تعالٰی نے مختلف جگہوں میں کیا کیا حسن پھیلا رکھا ہے اور اپنے کیسے کیسے جلوے دکھاتا ہے اور اس کو کوئی پرواہ نہیں کہ باہر سے دنیا آتی ہے، دیکھتی ہے نہیں دیکھتی ، ان لوگوں کو بھی کچھ سمجھ آتی ہے کہ نہیں آتی مگر وہ سارے جگنو ایک دم کیوں جلتے تھے اور ایک دم کیوں بجھتے تھے۔اگر مادہ کی تلاش تھی تو عام طور پر جانورں میں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ مادہ کے لئے الگ ہو کر باقیوں سے بچ کر ایسے اشارے دیتے ہیں تاکہ ان کے دوسرے رقیب نہ پہنچ جائیں مگر وہاں یہ نظارہ نہیں تھا۔پس DAVID ATTENOROUGH کی فلم میں جب میں نے دیکھا تو مجھے وہ یاد آگیا۔یہ تسبیح کا ایک طریق ہے۔دنیا میں ہر چیز خدا تعالیٰ کی تسبیح کر رہی ہے۔کچھ آوازوں کے ذریعے کچھ روشنی کے ذریعے کچھ سجدہ ریز ہو کر کچھ سیکھتے ہوئے ہزار ہا مخلوقات کی قسمیں یا ان گنت کہنا چاہیے اور ہزار یا تسبیح کی قسمیں یا ان گنت کہنا کا ہیے دنیا میں موجود ہیں لیکن ہم فاضل آنکھوں سے ان کو دیکھ کر گزر جاتے ہیں اور معلوم نہیں ہو تا کہ ہمارے خالق نے کیسی کیسی حسین چیزیں تخلیق فرما ر کھی ہیں۔سمندر کی تہہ میں روشنیوں کا دلکش نظارہ روشنیوں کے سلسلے میں مجھے یاد ہے وہاں ہی رات کے وقت کشتی میں سفر کا موقعہ ملا تو ایسی مچھلیاں ہمارے ساتھ ساتھ دوڑتی تھیں جو چاندی کی طرح چمک رہی تھیں اور پہلی مرتبہ مجھے یہ اتفاق ہوا تھا کہ ایسی مچھلی دیکھوں جو چاندی کی طرح چہکتی ہے۔یوں