ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 282
282 غالب اور قوت والا ہو۔یہ وہ سورۃ ہے جو ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔اگرچہ اس بارہ میں اختلاف ہے لیکن جو مستشرقین محققین باقی مسلمان علماء سے اختلاف بھی رکھتے ہیں ان کے نزدیک بھی ۱۲ سال (نبوت) تک کا زمانہ ہے اس عرصہ کے اندر اندر یہ سورۃ نازل ہو چکی تھی اور بعض مفسرین تو اس سے بہت پہلے کا زمانہ بتاتے ہیں۔بہر حال ہجرت سے پہلے کی یہ سورۃ ہے اور اس آیت کے متعلق بھی یہ تحقیق شدہ بات ہے کہ ہجرت سے پہلے کی ہے۔اس لئے اس دعا میں دراصل ہجرت کی بھی پیشگوئی فرمائی گئی تھی۔لیکن صرف ہجرت تک اس دعا کا مضمون محدود نہیں جیسا کہ میں بیان کروں گا۔اس سے زیادہ وسیع تر معانی اس میں پائے جاتے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۳ سال نبوت کے مکہ میں بسر فرمائے۔تیرہ سال تک دکھ جھیلے اور پھر تیرھویں سال کے آخر پر یا کم و بیش اس عرصہ میں آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔پس یہ دعا آپ کو یہ جما رہی ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم تجھے اس شہر سے نکلنا بھی ہے اور دوبارہ اس شہر میں داخل بھی ہوتا ہے۔تیرا نکلنا بھی سچائی کے ساتھ ہو گا اور تیرا دوبارہ اس شہر میں داخل ہونا بھی سچائی کے ساتھ ہو گا لیکن اس میں نکلنے اور داخل ہونے کی ترتیب کو بدل دیا گیا ہے۔اور داخل ہونے کا ذکر پہلے اور نکلنے کا بعد میں۔فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم ، گویا کہ آپ کو دعا سکھائی جا رہی ہے کہ تو یہ دعا کیا کر۔ریت آذر خلوني مُدْخَل صدقي اے میرے رب مجھے صدق کے ساتھ داخل فرما وآخر جري مخرج صدق اور صدق کے ساتھ مجھے نکلنے کی توفیق عطا فرما۔تو مکہ سے تو پہلے نکلنا تھا پھر ادخال کا ذکر کیوں پہلے فرمایا۔اس میں حکمت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک لحظہ کے لئے بھی خدا تعالٰی اس دکھ میں جتلا نہیں کرنا چاہتا تھا کہ گویا میں مکہ سے نکلوں گا اور پھر شاید واپس آؤں یا نہ آؤں۔پس واپسی کو زیادہ قطعی اور یقینی بنا کر پہلے پیش کر دیا گیا اور جس وقت یہ وحی نازل ہوئی ہے اس وقت اخراج سے پہلے آپ کو یہ خبر دے دی گئی کہ آپ نے ضرور اس شہر میں داخل ہوتا ہے، اس لئے جہاں تک نکلنے کا تعلق ہے اس سلسلہ میں کسی قسم کے نظکر کی اور غم کی ضرورت نہیں۔