ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 281 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 281

281 ناصر باغ - جرمنی ار مئی 1991 بسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ انعام یافتہ لوگوں کی محفوظ دعائیں تشهد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- سورۂ فاتحہ میں جو ہمیں یہ دعا سکھائی کہ اے خدا ہمیں سیدھے راستے پر ڈال ، وہ راستہ جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے انعام فرمایا۔اس ضمن میں انعام کی راہ پر چلنے والے یا خدا کی راہ کے وہ مسافر جو انعام یافتہ شمار ہوئے ان کا ذکر قرآن کریم میں مختلف شکلوں میں ملتا ہے اور ان کی دعائیں بھی محفوظ کر دی گئی ہیں۔ان دعاؤں کے سلسلہ میں ایک دعا نظر سے رہ گئی تھی جس کا بیان پہلے ہونا چاہیے تھا۔اس لئے میں اس دعا سے آج کا مضمون شروع کروں گا۔پھر چونکہ بعد کی چند دعائیں پہلے خطبہ میں بیان ہو چکی ہیں انکی ضرورت نہیں ہوگی۔اور پھر اس پہلی بھولی ہوئی دعا کے بعد حضرت ایوب کی دعا سے سلسلہ مضمون شروع ہو جائے گا۔مکہ سے مدینہ ہجرت کی پیشگوئی وہ دعا حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھائی گئی اور دعا یہ ہے۔آپ آؤ خليني مُدْخَلَ صِدْقٍ وَاخْرِجَيْنِ مُخْرَةٌ صِدْقٍ و اجْعَل لي من لدن لنا نَصِيرًا (بنی اسرائیل : ( اے میرے رب مجھے صدق کے ساتھ داخل فرما یعنی میرا قدم سچائی پر پڑتا ہو اور سچائی کے ساتھ میں داخل واخرجني مخرج صدق اور اس طرح سچائی پر قدم رکھتے ہوئے یا سچائی کے قدم کے ساتھ میں اس منزل سے باہر نکلوں واجْعَلْ لِي مِن لَّدُنكَ سُلطنا نصیرا اور میرے لئے اپنی جناب سے ایک ایسا مددگار عطا فرما جو ہوں۔