ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 273 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 273

273 "ع" سے مراد عالم یا علیم اور ص" سے مراد صادق ہے۔عالم ان معنوں میں یعنی اس لئے اس موقع پر اس کا استعمال ہوا ہے کہ خدا تعالی بہتر جانتا ہے کہ کسی کے لئے کوئی اولاد مفید ہے یا نہیں ہے۔کیوں اولاد عطا فرماتا ہے؟ کیوں نہیں اولاد عطا فرماتا۔اور صادق ان معنوں میں کہ اگر وہ وعدہ کرلے تو ضرور پورا رتا ہے خواہ بظاہر اولاد کے پیدا ہونے کا کوئی امکان بھی باقی نہ ہو۔پس ان صفات الہی کے ذکر کے بعد فرمایا اب ہم تجھ سے اپنے ایک بہت ہی پیارے بندے زکریا کے ساتھ اپنے حسن سلوک کا ذکر کرتے ہیں۔اذ نادى ربه تدا حیا اس نے ہلکی ہلکی آواز میں جس طرح ایک آدمی کراہتا ہے اور گلے اور منہ سے درد ناک سی آوازیں نکلتی ہیں گو بظا ہر دوسرے آدمی کو وہ پوری طرح سمجھ بھی نہیں آتیں لیکن یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ بہت ہی کوئی درد ناک بات ہو رہی ہے تو اس حالت میں حضرت زکریا نے اپنے رب سے ایک دعا مانگی۔وہ یہ تھی کہ قالَ رَبِّ إِني وَهَنَ الْعَظمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ النَّاسُ عَيْبًا وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَةٍ شَقِيًّا اے میرے اللہ ! میری ہڈیاں نرم پڑ چکی ہیں اور بڑھاپا میرے سر پر غالب آگیا ہے اور اس طرح وہ بھڑک اٹھا ہے جس طرح آگ روشن ہو جاتی ہے۔اس طرح سفیدی سے میرا سر روشن ہو گیا ہے وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا اے اللہ میری وفا کو دیکھ کہ اب تک میں اپنی دعا سے جو میں تیرے حضور کر رہا ہوں مایوس نہیں ہوا۔کتنی عظیم الشان دعا ہے ایک بوڑھا آدمی، جس کی ہڈیاں گل گئی ہوں، جس میں پوری طرح کھڑے ہونے کی طاقت نہ رہی ہو اس کے بال سفید ہو چکے ہوں اور صرف یہی نہیں بلکہ یہیں آگے جاکر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔دراني حفتُ المَوَالِيَ مِن وَرَاءِ فِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عاقِرًا فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا اے خدا!! صرف میں ہی کمزور نہیں ہوں؟ میری بیوی بھی بانجھ ہے۔اس میں بھی بچہ دینے کی کوئی جان نہیں ہے۔کتنا عظیم تو کل ہے کہ اس کی کوئی مثال دنیا میں آپ کو دکھائی نہیں دے گی۔ایسی ایسی عظیم دعائیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمارے لئے محفوظ کی ہیں کہ اخدنا الضراطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا مانگنے والوں کیلئے تو موجیں ہو گئی ہیں۔جتنا مشکل رستہ ہے