ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 272
272 اگر جماعت احمد یہ خدا تعالٰی سے میر مانگے گی اور رحم مانگے گی تو انشاء اللہ ان کے حوصلے کبھی نا کام نہیں ہونگے اور ہمیشہ اللہ تعالٰی ان کے حوصلوں کو سربلند رکھے گا۔اولاد کی تمنا میں حضرت زکریا کی دعا اب ایک دعا حضرت زکریا کی میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو اولاد کی تمنا میں کی گئی ہے مگر کس قسم کی اولاد کی تمنا ہے کیوں ایسی تمنا کی گئی تھی اس کا پس منظر میں پہلے حضرت زکریا کی ایک دعا میں آپ کے سامنے بیان کر چکا ہوں۔یہ دعا اپنی ایک الگ شان رکھتی ہے بڑا گہرا اس میں درد ہے اور بہت ہی زیادہ خدا تعالٰی سے وفا کا اظہار ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں استقلال کا اظہار ہے۔جمیع اس سے یہ آیت شروع ہوتی ہے۔سورہ مریم کی یہ پہلی آیت ہے۔تخلیص یہ وہ حروف ہیں جو حروف مقطعات کہلاتے ہیں اور ان میں خدا تعالٰی کی بعض صفات بیان کی گئی ہیں۔اس کے بعد اللہ تعالٰی فرماتا ہے ذخر تختتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اب ہم اپنے ایک خاص بندے زکریا کے ساتھ تیرے رب کی رحمت کا ذکر کرنے لگے ہیں۔جب کوئی خاص اہم بات ہو تو تمہیدا اس سے پہلے متوجہ کیا جاتا ہے کہ دیکھو دیکھو اب بہت عظیم الشان ذکر ہونے والا ہے، تو اس طرح قرآن کریم نے اس مضمون کا عنوان باندھا ہے پہلے اپنی وہ صفات بیان فرمائیں جنکے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح فتح البیان میں یہ مذکور ہے کہ ام ھانی سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ک سے مراد گاف ہے۔یعنی خدا اپنے بندے کے لئے کافی ہے۔آليْسَ اللهُ عاف عندہ میں نہیں لفظ کاف پایا جاتا ہے کہ کیا خدا تعالیٰ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے جس کی انگوٹھیاں احمدی اکثر پہنے پھرتے ہیں۔تو پہلی بات تو "ک" ہے کہ خدا سے مایوس ہونے کا کیا سوال ہے کیا وہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں پھر "8" سے مراد خار ہے یعنی ہدایت دینے والا وہی ہے جو اپنے بندے کو ہدایت پر قائم رکھے تو رکھے ورنہ انسان اپنی طاقت سے ہدایت پر قائم رہ نہیں سکتا۔"ی" کا لفظ مخاطب کا ہے کہ اے خدا جو کافی ہے اور ہادی ہے اور