ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 265
265 پہلی نسل سے بہت دور ہٹ چکی ہوتی ہے۔ان کے درمیان فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ فاصلے نسلاً بعد نسل بڑھتے چلے جاتے ہیں بجائے اس کہ وہ کم ہونے لگے اس لئے یہ دعا جو سکھائی گئی اس کا پس منظر بھی خوب کھول کر بیان فرما دیا گیا اور اس کا جو بیچ کا حصہ ہے وہ ہے وَاغْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلي من الرحمة کہ اے بچو ؟ تم اپنے والدین کے لئے اس طرح نرمی کے پر پھیلا دو جیسے پرندے اپنے چوزوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اپنے پروں میں ڈھانپ لیتے ہیں۔یہاں پر کا استعمال اس لئے کیا گیا تاکہ پرندوں کا اپنے بچوں کے ساتھ سلوک ایک تصویر کی صورت میں ہماری نظروں کے سامنے ابھر آئے اور فرمایا کہ اس طرح اپنے والدین کے ساتھ پیار اور محبت کا سلوک کرو جس طرح پرندے اپنے بچوں کو پالتے ہیں، ان کی نگہداشت کرتے ہیں جو کلیتہ " ان کے محتاج ہوتے ہیں۔یہاں دراصل انسانوں سے ہٹ کر پرندوں کی مثال دی گئی ہے۔جناح کا لفظ محاورہ ہے ضروری نہیں کہ پر کے لئے استعمال ہو۔ایک صفت کے بیان کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔لیکن کیوں استعمال ہوتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پرندوں کی طرف ذہن منتقل ہو جاتا ہے کیونکہ پرندوں کے پر ہوتے ہیں۔اور پرندے اپنے بچوں کی بعض دفعہ اس طرح لمبے عرصے تک تربیت کرتے ہیں کہ نہ وہ بچے دیکھ سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں نہ کھا سکتے ہیں۔ان کی چونچوں کو ٹھونگے مارمار کے وہ خوراک کے لئے کھلواتے ہیں، اور جب تک وہ اس لائق نہیں ہو جاتے کہ خود آزا و زندگی بسر کر سکیں۔اس وقت تک پرندوں کے والدین مسلسل محنت کرتے چلے جاتے ہیں۔پھر اس میں ایک اور بھی حکمت ہے کہ دونوں پرندے اپنے بچوں کے لئے محنت کرتے ہیں اور صرف ماں پر نہیں چھوڑا جاتا۔اور قرآن کریم نے جو ہمیں دعا سکھائی اس میں بھی اس مضمون کو کھول دیا گیا ہے آجکل کے جدید معاشروں میں ایک یہ بھی خرابی ہے اور ہمارے قدیم معاشروں میں بھی یہ خرابی ہے بلکہ بعض صورتوں میں تیسری دنیا کے ممالک میں یہ خرابی ترقی یافتہ ممالک سے بہت زیادہ پائی جاتی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ماں کا کام ہے تربیت کرے اور والد اس میں دخل نہیں دیتے۔