ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 264 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 264

264 بوڑھے لوگوں کے گھروں پر زیادہ سے زیادہ بڑھنے لگتے ہیں یہاں تک کہ بعض امیر ممالک بھی عاجز آجاتے ہیں اور ان کے پاس اتنا روپیہ مہیا نہیں ہوتا کہ وہ اپنی سوسائٹی کے سب بوڑھوں کی ضرورتوں کو پورا کر سکیں جو ضرورتیں دراصل ان کی اولاد کو پوری کرنی چاہیئے تھیں لیکن جیسا کہ غالبا " مولانا روم کا شعر ہے از مکافات عمل غاض مشو گندم از گندم بروید جو ز جو " کہ اعمال کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں ان سے غافل نہ رہنا۔گندم از گندم بروید جوز جو گندم کا بیج ڈالو گے تو گندم ہی اگے گی اور جو بوؤ گے تو جو ہی اگیں گے۔جنریشن گیپ سے پاک سوسائٹی کا تصور اس لئے پہلی نسلوں کے ساتھ آنے والی نسلوں کا تعلق دراصل اس تعلق کا آئینہ دار ہے جو پہلی نسلوں نے اپنی چھوٹی نسلوں سے رکھا تھا۔اگر اس میں شفقت تھی اور اس میں صرف شفقت ہی نہیں تھی بلکہ تربیت کے لئے استعمال ہونے والی۔شفقت تھی، اگر رحمت کا سلوک تھا اور اس رحمت کے نتیجے میں اولاد کے ساتھ بہت ہی حکمت کے ساتھ برتاؤ کیا گیا تاکہ ان کے اخلاق بگڑیں نہیں بلکہ سنورتے چلے جائیں اور اس رنگ میں ان کی تربیت کی گئی اور رحم کے نتیجے میں تربیت کی طرف زیا دہ توجہ دی گئی تو ایسے لوگوں کی اولادیں پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس احسان کو یا د رکھتے ہوئے فطری طور پر اپنے والدین کے لئے آخر وقت تک نرم رہتی ہیں اور ان کے ساتھ ان کے تعلق کٹ نہیں سکتے ، ایسی سوسائٹی میں کوئی Generation Gap پیدا نہیں ہو سکتا کیونکہ Generation Gap ایک بہت ہی خطرناک اصطلاح ہے اور آج کی ترقی یافتہ دنیا کی ایجاد ہے ورنہ قدیم سوسائٹیوں میں آج تک Generation Gap کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا یہ اعلیٰ تعلیم اور ترقی کی نشانی نہیں ہے بلکہ قرآن کریم نے جو حکمت بیان فرمائی ہے اس کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں یہ بیماری پیدا ہوتی ہے کہ ایک Generation اپنی چھوٹی Generation کے ساتھ محبت کا تعلق چھوڑ دیتی ہے اور تربیت سے غافل ہو جاتی ہے تو وہ نسل جب بڑی ہوتی ہے اپنی