ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 251
251 وَمَا يَخْفى على اللو من في و في الأرض ولا في السماء میں کیا چیز ہوں۔اے خدا! تو تو وہ ہے جس سے آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے۔الحمد للو الذي وهب الكبير امعِيلَ وَإِسْحَقَ ، إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدعاء (ابراہیم : ۳۹-۲۰) ہر تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جس نے اس بڑھاپے کی عمر میں مجھے اسماعیل اور اسحاق جیسی اولاد عطا فرمائی۔اور یہ وہ اولاد ہے جو نیک اولاد کی طلب کے نتیجے میں عطا ہوئی اور جس نے ثابت کر دیا کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی نیت اندر تک پاک تھی۔پس بظاہر یہ نہیں فرمایا گیا لیکن جب اس مضمون کو آپ اکٹھا ملا کر پڑھیں تو خدا کی طرف سے یہ گواہی بھی ساتھ دے دی گئی ہے کہ ابراہیم تو اپنے بجز میں کہہ رہا تھا کہ جہاں تک میں جانتا ہوں میری نیت صاف ہے لیکن تو بہتر جانتا ہے، ساتھ ہی اس نے ایک ایسی بات کہی جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی نیت کو جانتا تھا اور اس کی نیت کی پاکی کے مطابق اس سے سلوک فرمایا کیونکہ جس نیک اولاد کے متعلق اس نے کہا کہ میں تجھے سے نیک اولاد مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ نے وہ نیک اولاد عطا فرما کرتا دیا کہ تیری نیست پاک تھی چنانچہ اس کو اسماعیل دیا۔پھر اسحاق دیا۔ان ربي تسويه الدُّعَاءِ چنانچہ ابراہیم خود اقرار کر جاتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے دماغ وہاں پہنچا ہے تو خود ہی بات بھی سمجھ آگئی ہے۔عاجزی کے معا بعد اللہ تعالیٰ نے سمجھا بھی دیا ہے کہ ابراہیم تو کیوں اپنی نیتوں کے متعلق ڈر رہا ہے۔اپنی اولاد کے منہ تو دیکھ۔کتنے پاک چہرے ہیں۔ان کے وجودوں پر نظر کر۔کیا یہ تیری دعاؤں کا ثمرہ نہیں ہیں۔اگر ہیں تو پھر الْحَمْدُ پڑھ اور خدا کا شکر ادا کر اور اس کی حمد کے گیت گا اور یہ کہہ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ النقاء کہ دیکھو دیکھو میرا رب بہت ہی دعا سننے والا ہے۔اور اس دعا کی مقبولیت کے نشان کے طور پر اس نے مجھے ایسی پاک اولاد عطا فرمائی۔یہ ویسی ہی دعا ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اپنے شعروں میں کہا کہ۔بشارت تو نے دی اور پھر أولاد کہا ہرگز نہیں ہوں گے بریاد