ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 237 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 237

237 بندے کے ساتھ اللہ کے سلوک کی اہمیت پس دعائیں کرتے وقت یہ احتیاط ضرور کرنی چاہئے کہ اپنی طرف سے دعاؤں میں ایسی ہو شیاریاں، یا چالاکیاں نہ کریں کہ بعد میں جب دعا قبول ہو تو پتہ لگے کہ اوہو! یہ تو ہماری دعا کے نتیجے میں ایسی بات ہو گئی۔ایسے دلچسپ واقعات ہوتے ہیں۔خدا تعالی اپنے بندوں کو دراصل بڑے پیارے اور لطیف انداز میں اپنے قرب کے نشان دیتا ہے۔بعض دفعہ تھوڑی تھوڑی سزائیں بھی ساتھ چل رہی ہوتی ہیں۔بعض لوگ بڑے معجزے دیکھنا چاہتے ہیں جو ظاہری اور عددی معجزے ہوں کہ جی فلاں شخص نے خواب میں دیکھا ہے کہ فلاں تاریخ کو یہ واقعہ ہو جائے گا اور یہ ہو گیا۔یہ سطحی چیزیں ہیں۔اصل جو زندہ معجزہ ہے وہ خدا کا بندے کے ساتھ ایسا باریک سلوک ہے جو زندگی میں اس کے ساتھ ہوتا رہتا ہے۔ایسے لطیف اشارے اسے ملتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں دل کی گہرائیوں میں یہ بات جاگزیں ہو جاتی ہے کہ میرا اور اللہ کا ایک معاملہ ہے جو چل رہا ہے۔اوپر بھی پانی نیچے بھی پانی مضمون سے حضرت منشی اروڑے خان والا واقعہ آپ نے بارہا سنا ہے۔وہ اسی تعلق رکھتا ہے۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب اور حضرت منشی اروڈے خارج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک دفعہ رخصت ہو رہے تھے۔جب واپس جانے کی اجازت لی تو شدید گرمی تھی اور بہت دیر سے بارش نہیں ہوئی تھی تو حضرت منشی ظفر احمد صاحب نے بے تکلفی سے پیار سے عرض کیا کہ حضور! دعا کریں۔بہت ہی گرمی ہے۔واپسی کا سفر بھی سخت ہے۔اللہ تعالٰی بارش عطا فرمائے۔تو منشی اروڑے خان نے کہا کہ میرے لئے تو یہ دعا کریں کہ اوپر سے پانی نیچے سے پانی پانی ہی پانی ہو جائے چنانچہ وہ یکے میں بیٹھے بٹالہ کی طرف روانہ ہوئے راستے میں وڈالہ کے قریب ایک جگہ جہاں ایک چھوٹی سے پلی آیا کرتی تھی ہم بھی جب گزرتے تھے تو وہاں ایک چھوٹی سے پلی آیا کرتی تھی) اس سے پہلے کہ وہ پلی آتی اچانک بادل امنڈ کر آئے اور اس قدر