ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 234
234 کمزور تھے۔کتنے خطرناک جابر سے ان کا مقابلہ تھا لیکن بات ہی اس سے شروع کی۔على الله توكلنا ہم اللہ پر توکل کرتے ہوئے اب آگے بڑھ رہے ہیں ، تو تو کل کے مضمون کو کبھی نہ بھلا ئیں تو دیکھیں اس دعا میں کیسی زندگی پیدا ہو جاتی ہے۔ہزارھا سال کی یہ دعا مر نہیں سکتی۔زندہ دعا ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔پھر عرض کرتے ہیں ونجنا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ اور ہمیں کافروں کی قوم سے اپنی رحمت کے ذریعے نجات بخش۔یہاں نجات بخشنے کا جو مضمون ہے غالبا" ہجرت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو ہجرت کا حکم ہو چکا تھا اور فرعون ہجرت میں مانع تھا پس تعینا سے مراد یہاں ہجرت ہے کیونکہ جب حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام آخر حضرت شعیب کے پاس پہنچے اور وہاں پناہ لی تو انہوں نے اسی لفظ کے ساتھ آپ کو خوش خبری دی کہ تو ظالموں کی قوم سے نجات پاچکا ہے۔پس کامیاب ہجرت یہاں مراد ہے تو یہ کہا کہ اے خدا! ان میں ہوتے ہوئے بھی ہمیں ان کے ظلم و ستم سے بچا اور پھر اپنے فضل سے ہمیں ان لوگوں سے کامیاب ہجرت کرنے کی توفیق عطا فرما۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ دعا بھی ریکارڈ کی گئی کہ ربنا اطيش على أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الأليفة (سوره یونس : ۸۹) بالعموم انبیاء کی طرف بد دعائیں منسوب نہیں ہوتیں لیکن اگر آپ دو یا تین جگہ جہاں بد دعائیں مذکور ہیں ان کا بغور مطالعہ کریں تو بددعا کرنے کی حکمت اور اس کا جواز بھی وہیں موجود ہو گا اور مضمون بہت اچھی طرح کھل جاتا ہے۔قرآن کریم ایک ایسی کامل کتاب ہے کہ شبہ کا کوئی پہلو باقی نہیں رہنے دیتی۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دیکھا کہ قوم باربار انکار کر رہی ہے اور ہر عذاب کے بعد وقتی طور پر توبہ کرتی ہے اور پھر دوبارہ انکار کر دیتی ہے تو یہ دعا کی ربنا العش على اموالهم اے خدا جو قوم اموال کے تکبر میں مبتلا ہو وہ تو ایمان لا ہی نہیں سکتی۔مالداروں کا اپنا ایک نفسیاتی رنگ ہوا کرتا ہے اور اپنے سے