ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 19 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 19

19 بیت الفضل - لندن کار دسمبر 1990ء يشو الله الرّحمنِ الرَّحِيم تشهد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کی تلاوت فرمائی۔تستح له السموتُ الشَّيْمُ والأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ، وَ إِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسْبَحُ محمد ولكن لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ، إِنه كَانَ حَلِيْمًا فَفُورًا وَإِذَا قَرَات القرات جعلنا بينك وبين الذين لا يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْئُورًا وجَعَلْنَا عَلى قُلُوبِهِمْ آكِتَةً أن يَفْقَهُوهُ وَفي أَذَانِهِمْ وَقَرًا ، وَإِذَا ذَكَرْتَ رَبِّكَ في الْقُرْآنِ وَحْدَهُ وَلَّوْا عَلَى آدَبَارِهِمْ نُفُورا - (بنی اسرائیل : ۴۷۴۵) اس کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالی نے فرمایا :- یہ تین آیات جن کی میں نے تلاوت کی ہے یہ سورہ اسراء جس کا دوسرا نام بنی اسرائیل بھی ہے اس سے لی گئی ہیں۔آیات نمبر ۴۲۵ ۴۶ ۴۷ اگر بسم اللہ شامل کرلی جائے جیسا کہ ہمارے ہاں رواج ہے اور قرآن کریم میں بسم اللہ کا نمبر شامل کیا جاتا ہے تو پھر یہی ہے۔بسم اللہ کے بغیر ۴۴-۴۵ اور ہم نمبر ہو گا۔ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں سات آسمان اور زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے اور فی الحقیقت کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو خدا تعالیٰ کی تسبیح نہ کر رہی ہو لیکن تم لوگ ان تسبیحوں کو سمجھتے نہیں یعنی زندہ چیزیں بھی اور بظا ہر مردہ نظر آنے والی چیزیں بھی جو کچھ بھی کائنات میں آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتا ہے لیکن تم اسے سمجھ نہیں سکتے۔إِنَّهُ كَانَ حَلِيْمًا غَفُورًا۔یقیناً وہ یعنی اللہ تعالٰی بہت ہی برد بار اور بہت ہی مغفرت کا سلوک فرمانے والا ہے۔واذا قرات الفرات اے محمد! نام تو نہیں لیا گیا لیکن مخاطب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہی فرمایا گیا ہے کہ اے محمد ! تو جب قرآن کی خلافت کرتا ہے تو تیرے درمیان اور ان لوگوں کے