ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 20
20 درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ایک ایسا پردہ وارد کر دیتے ہیں جو دکھائی نہیں دیتا یعنی مخفی پردہ ہے۔دیکھنے میں کوئی پردہ نہیں لیکن فی الحقیقت وہ پردہ ہے جو تیرے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔وَجَعَلْنَا على قُلُوبِهِمْآاعنة أن يَفْقَمُوهُ اور ہم ان کے دلوں پر طرح طرح کے پردے ڈال دیتے ہیں۔چنانچہ وہ ان پردوں کی وجہ سے سمجھ نہیں سکتے یا اس غرض سے پردے ڈال دیتے ہیں کہ وہ کچھ سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے یعنی اول تو آواز ہی دلوں تک نہیں پہنچتی کیونکہ کان ہی اس آواز کو رد کر دیتے ہیں اور جو آواز دلوں تک پہنچتی ہے۔دل پردوں میں ملفوف ہیں، لیٹے ہوئے ہیں اور ایک نہیں کئی قسم کے پر دے ایسے ہیں جنہوں نے دلوں کو حق کی بات سمجھنے سے محروم کر رکھا ہے اور جب بھی تو قرآن کریم میں اپنے رب کو اس کی توحید کے ساتھ ایک خدا کے طور پر پیش کرتا ہے یا اس کا ذکر کرتا ہے تو یہ لوگ پیٹھ پھیر کر نفرت کے ساتھ منہ موڑ کے چلے جاتے ہیں۔حمد کو سمجھنے اور اپنانے کے بعض اور پہلو گزشتہ خطبے میں میں نے نماز میں لذت پیدا کرنے کا ایک طریق یہ بیان کیا تھا کہ سورۂ فاتحہ کے مضمون کو خوب غور سے پڑھیں اور حمد لفظ میں ساری لذتوں کی کنجی ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی حمد اس طرح کی جائے کہ انسان کا دماغ ان لفظوں کے ساتھ مل جائے وابستہ ہو جائے جو سورۂ فاتحہ میں ادا کیے جاتے ہیں اور سوچ سوچ کر حمد کو مختلف پہلوؤں سے خدا تعالیٰ کی ذات پر اطلاق کرتا چلا جائے اور اس کی صفات کو حمد کی روشنی میں سمجھے تو مضامین کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو انسان پر روشن ہوتا چلا جاتا ہے قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ حمد کرنے میں کائنات کی ہر چیز شامل ہے۔صرف جانداروں کا ہی ذکر نہیں فرمایا گیا بلکہ ہر وہ چیز جو آسمانوں میں یا زمین میں ظاہر یا مخفی طور پر موجود ہے وہ سب خدا تعالٰی کی حمد کر رہی ہوتی ہے۔فرمایا : لیکن تم اس کو سمجھتے نہیں ہو۔۔اس ضمن میں میں چند اور پہلوؤں سے احباب جماعت پر حمد کو سمجھنے اور اس کو اپنانے کا طریق پیش کرنا چاہتا ہوں۔پہلا تو یہ ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے