ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 213 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 213

213 الام وقت ہو گا جب انسان واپس جا رہا ہو گا۔اس وقت اگر خدا کی رضا کی نگاہیں پڑ رہی ہوں، اگر اس کے نزدیک اس وقت انسان نیکوں میں شمار ہو چکا ہو تو زندگی کا مقصد پور ! ہو گیا اور پھر انسان یہ کہہ سکتا ہے کہ میں باطل میں نہیں ہوں۔ان لوگوں میں نہیں ہوں جو باطل شمار کئے جاتے ہیں۔حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کی دعا پھر اس کے بعد ابھی ایک دعا جاری ہے۔اپنی ذات کے لئے سب کچھ مانگا گیا مگر اس دین کے لئے ابھی کچھ نہیں مانگا جس دین کے نتیجے میں ان کی اصلاح کا سلسلہ شروع ہوا۔چنانچہ معلوم ہوتا ہے کہ موت کے تصور کے ساتھ ہی یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اے خدا! ہم نے پیغام دوسروں کو بھی تو پہنچانا ہے اور تیرے جو وعدے ہمارے متعلق پہلے نبیوں سے کئے گئے ہیں کہ ہم دنیا میں اس طرح اصلاح احوال کریں گے اور لوگوں کے حالات میں تبدیلیاں پیدا کریں گے وہ وعدے اگر پورے نہ ہوئے تو قیامت کے دن پھر بھی ہمارے لئے شرمندگی ہے یعنی ایک انسان اپنی ذات میں اگر نیک بھی بن چکا ہو اور اس کا بظا ہر نیک انجام بھی ہو وہ اگر دوسرے بنی نوع انسان کے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ کو کامیاب نہیں سمجھتا۔یہ اولوالالباب کی تعریف کی جارہی ہے۔چنانچہ یہ دعا بھی ساتھ بتا دی کہ رَبَّنَا وَاتِنَا مَا وَعَدَ تَنَا عَلَى رُسُلِكَ اے خدا! وہ سارے وعدے ہمارے حق میں پوئے فرما دے جو تو نے پہلے رسولوں کو دیئے تھے کہ ہم آنے والوں کے ساتھ یہ یہ سلوک فرمائیں گے۔اب یہ کیا مطلب ہے کہ : وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ دراصل یہاں یہ بات کھل گئی کہ یہ ساری دعا جو الوالالباب کی دعا ہے یہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے غلاموں کے دعا ہے اور یہ جو باتیں ہو رہی ہیں یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے غلاموں کی باتیں ہو رہی ہیں کیونکہ یہ آپ کی ہی ایک امت ہے جس کے متعلق گزشتہ تمام انبیاء نے خوش خبریاں بھیجی تھیں اور وعدے کئے تھے کہ میں امت محمدیہ سے یہ یہ سلوک کروں گاوہ ہمارے حق میں پورے فرما دے۔وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيمَةِ قیامت کے دن ہمیں ذلیل و رسوا نہ ہونے دینا کہ وہ وعدے جو ہمارے ساتھ وابستہ