ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 212
212 بخشے بھی جاچکے ہوں تب بھی ہمارے اندر برائیاں موجود رہیں گی اور تیری مدد کے سوا وہ برائیاں دور نہیں ہو سکتیں۔پس مومنوں کو نو مبا۔یعین کی فکر کرنی چاہئیے اور ان کے ساتھ لگ کر ان کی کمزوریاں دور کرنے میں ان کی مدد کرنی چاہیے ورنہ اسی طرح کھلے چھوڑ دیئے گئے تو باقی جماعت میں بھی وہ اپنی بیماریاں پھیلاتے رہیں گے۔دعا کا اگلا حصہ اسے مکمل کر دیتا ہے۔پھر وہ عرض کرتے ہیں۔وتوفنا مع الابرار اگر ہماری دعا قبول ہو گئی تو اب برائیاں تو تو دور کرے گا لیکن پتہ نہیں کتنا وقت لگتا ہے۔بعض بیماریاں عمر کا ساتھ دیئے ہوئے ہوتی ہیں، لمبے عرصے سے چھٹی ہوئی ہوتی ہیں اور پتہ نہیں کتنی عمر باقی ہے۔اتنے عرصے میں وہ مٹ بھی سکیں گی کہ نہیں۔موت کا کوئی وقت معین نہیں تو دیکھیں اولوالالباب نے کیسی عقل والی دعا کی۔دتوفنا مع الابرار اے خدا! مارنا نہ جب تک نیکیوں میں شمار نہ ہو چکے ہوں۔تیری مرضی ہے جلد صحت دے یا دیر سے صحت دے، مقصد یہ ہے کہ جب تک صحت نہ پا چکے ہوں ہمیں واپس نہ بلانا۔آخری سانس اس حالت میں لے رہے ہوں کہ تو کہہ رہا ہو کہ تم ابرار میں داخل ہو گئے ہو۔کیسی پیاری دعا ہے اور اولو الالعاب واقعی ایسی دعائیں کیا کرتے ہیں اور ایسی دعاؤں کی درخواستیں بھی کیا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی لاہور میں ایک صحابیہ ہیں ، یہاں ہماری جماعت کی بڑی مخلص رکن آمنہ صدیقہ کی والدہ ہیں۔بہت بڑی عمر ہو چکی ہے۔غالبا" نوئے اور سو کے درمیان ہے لیکن ماشاء اللہ ہوش و حواس خوب قائم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کی باتیں یاد ان کا ابھی رمضان میں مجھے پیغام ملا اس پر مجھے یہ آیت یاد آئی۔میں نے کہا دیکھیں خدا نے کس طرح اپنے پیارے بندوں کی باتیں قرآن کریم میں محفوظ کر دی ہیں۔ان کی بھی جو پہلے گزر چکے تھے ان کی بھی جو بعد میں آنے والے تھے۔انہوں نے کہا کہ میرے لئے صرف یہ دعا کیا کریں کہ خدا مجھے اس حالت میں واپس بلائے جب مجھ سے راضی ہو چکا ہو۔میں۔وتوفنا مع الابرار کی دعا صاحب عقل لوگوں کی دعا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ برائیوں کا زندگی کا ساتھ ہوتا ہے۔بعض دفعہ گر بھی جائیں تو دوبارہ بھی آجاتی ہیں۔آخری فیصلہ اس۔