ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 211
211 کے نتیجے میں کیا طلب کیا جاتا ہے۔اولوالالباب یہ عرض کرتے ہیں : ربنا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا اے خدا! پہلا مطالبہ تو ہمارا یہ ہے کہ جب ہمیں نئی زندگی عطا کی گئی، نئے دور میں ہم داخل ہو رہے ہیں تو ہمارے پرانے گناہوں کا شمار نہ کیا جائے CLEAN SLATE یعنی بالکل صاف سختی کے ساتھ ہم دوبارہ زندگی کا ایک نیا سفر شروع کریں لیکن یہ کہنا بھی کافی نہیں کیونکہ زندگی کے اندر بہت سی برائیاں اس طرح داخل ہو جاتی ہیں جیسے فطرت ثانیہ بن گئی ہوں اور محض ایمان لانے کے نتیجے میں وہ بیماریاں از خود جھڑ نہیں جایا کرتیں۔پرانے گناہ تو بخشے گئے لیکن بد عادتیں جو زندگی کا حصہ بن چکی ہیں وہ کیسے چھٹیں گی اور ان کے نتیجے میں جو نئے گناہ پیدا ہوتے رہیں گے ان کا کیا بنے گا۔تو دیکھئے یہ صاحب عقل لوگ کیسی اچھی دعا کر رہے ہیں۔کہتے ہیں وعقد مناسباتنا پہلے کی بخشش اور آئندہ ہم سے ہماری وہ برائیاں دور کرنا شروع فرما دے جو برائیاں ہمارے ساتھ لاحق ہو چکی ہیں بیماریوں کی طرح ہمیں چھٹ گئی ہیں، جن کو دور کرنا ہماری طاقت میں نہیں ہے۔پس ایمان لانے کے ساتھ ہی سب برائیاں دور نہیں ہو جایا کرتیں اور یہ خصوصا ان مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے جو دنیا میں تبلیغ اسلام کر رہے ہیں۔محض تبلیغ کے ذریعے کسی کو مسلمان بنا لیتا اور یہ سمجھ لینا کہ فرض ادا ہو گیا ہرگز کافی نہیں کیونکہ بہت سے ایسے ایمان لانے والے ہوں گے جو بچے دل سے تو یہ بھی کر چکے ہوں گے لیکن اپنی بہت سی بدیاں ساتھ لے کر آئیں گے جن سے چھٹکارا پانا ان کے بس میں نہیں۔اگر ان کی طرف توجہ نہ کی گئی ، اگر تبلیغ کرنے والا ان سے مستقل تعلق رکھ کے ان کی برائیاں دور کرنے میں ان کی مدد نہیں کرتا تو ایسے ہی ہو گا جیسے بعض بچے وبائی امراض کا شکار ہوتے ہیں اور مائیں ان کو جگہ جگہ لئے پھرتی ہیں، اتنا نہیں سوچتیں کہ مجالس میں لے کے جائیں گی تو اور بھی بیماریاں پھیلائیں گی۔کئی مائیں میرے پاس بھی لے آتی ہیں جب میں پیار کر چکتا ہوں تو بتاتی ہیں کہ اس کو فلاں وبائی بیماری ہے۔اللہ تعالی حفاظت فرماتا ہے وہ الگ بات ہے لیکن یہ جو مضمون ہے اس کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہیئے۔قرآن کریم نے ہمیں بتایا کہ اولوالالباب اقرار کرتے ہیں کہ محض ایمان لانے کے نتیجے میں ہم پاک وصاف نہیں ہو گئے۔ہمارے گناہ