ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 201 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 201

201 جب تک یہ نہ پتہ چلے کہ وہ رستہ کیا تھا؟ کس طرح اس رستے پر چلنے کی ان کو توفیق ملی؟ کس طرح اس رستے پر چل کر وہ صاحب انعام لوگ بنے ؟ اس وقت تک خالی منہ سے یہ باتیں کہہ دینا بے معنی بات ہے۔بے معنی نہ سہی، برکتیں کچھ نہ کچھ تو ملتی ہوں گی لیکن جتنی برکتوں کی توقع کی جاسکتی ہے وہ برکتیں اس طرح نصیب نہیں ہو سکتیں جب تک اس دعا کی ذیل میں وہ دعائیں ہی معلوم نہ ہوں جو دعائیں کرتے ہوئے خدا کی راہ میں چلنے والے قافلے عمر بھر اپنا سفر طے کرتے رہے اور ہمیشہ کامیابی کے ساتھ سفر طے کیا۔ان دعاؤں کے سہارے ان کو ہر ٹھوکر سے بچایا گیا۔ہر ابتلا ء سے وہ سرخرو ہو کر نکلے اور خدا کے حضور مکرم اور محترم ٹھرے۔خدا نے خود ان کی حمد بیان فرمائی اور خدا کے فرشتوں نے بھی ان پر درود بھیجے۔یہ وہ رستہ ہے جس کا تفصیل سے جماعت کو علم ہونا چاہیے۔واقفین نو پانے کی تمنا کرنے والوں کے لئے حضرت ذکریا کی دعا آخر پر میں حضرت زکریا علیہ السلام کی یہ دعا آپ کے سامنے رکھتا ہوں کیونکہ آجکل خاص طور پر مجھے بہت سی خواتین کے اور بعض مردوں کے بھی خط مل رہے ہیں کہ اس رمضان میں خاص طور پر ہمارے لئے بیٹے کی دعا کرنا۔ان خطوں کا حضرت ذکریا" کی دعا سے ایک گہرا تعلق اس لئے بھی ہے کہ یہ وقف نو میں شمولیت کے شوق رکھنے کے نتیجے میں دعاؤں کے خط لکھ رہے ہیں۔اکثر خط یہ ہیں کہ ہماری شدید تمنا ہے کہ ہم بھی وقت نو کی تحریک میں شامل ہو جائیں اگرچہ وقت گزر چکا ہے لیکن خدا کے لئے ہمیں شامل کریں اور دعائیں کر کر کے شامل کروائیں۔ایک صرف شامل کرنے کی درخواست نہیں بلکہ اونٹ بھی دیں ، سامان بھی دیں اور پھر اس کو لاد بھی دیں تو یہ اکیلے میرے بس کی بات نہیں ہے ساری جماعت اس دعا میں ساتھ شامل ہو مدد کرے تو اللہ تعالٰی جس پر رحم فرمائے اس پر رحم ہو گا اور خدا ان مخلصین کی جھولیاں پھر اپنی رحمتوں سے بھرے گا اور پھر وہ ان جھولیوں کو بھر بھر کر دوبارہ خدا کے حضور پیش کریں گے۔حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا کا آغاز اس طرح ہوا کہ قرآن کریم بیان فرماتا ہے کہ وہ جب بھی حضرت مریم کے حجرے میں آپ کا حال پوچھنے جایا کرتے تھے۔(حضرت