ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 196
196 ان دعاؤں کا ہمیں استحقاق نہیں رہے گا۔پس یہ دعا مقبول تب ہوگی اگر آپ کا مولا خدا ہی ہو۔اگر ضرورت اور مصیبت کے وقت دوسروں کی طرف نہ بھاگیں ، اگر شرک میں بتلا نہ ہوں، اگر مولا دنیا والے بتاتے ہوئے ہوں اور دعا محمد رسول اللہ والی کریں جن کا مولا خدا کے سوا کوئی بھی نہیں تھا تو ایک بے محل دعا ہو گی۔اس کا آپ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ پس انکار کرنے والوں اور ناشکری کرنے والوں پر تو ہمیں نصرت عطا فرما کیونکہ ہمارا مولا تو ہے اور تیرے سوا اور رحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ کوئی مولا نہیں۔پھر یہ دعا سکھائی : رَبَّنَا لا تزغ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ (آل عمران : (۹) یہ دعا الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ کی دعا کے طور پر سکھائی گئی ہے جو محکمات اور متشابہات دونوں پر ایمان لاتے ہیں اور یہ عرض کرتے ہیں محل من عِندِ اللہ یہ سب کچھ خدا ہی کی طرف سے ہے۔اس لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ آپ بغیر اس مضمون کو سمجھے اگر یہ دعا کرتے رہیں کہ ربنا لا تزغ قلوبنا جیسا کہ بعض کتب میں قرآنی دعائیں لکھی ہوئی ہیں اور پس منظر بیان نہیں ہوا تو ہو سکتا ہے کہ آپ کی دعا کا تیر خالی چلا جائے اور آپ کو علم نہ ہو کہ کیوں خطا ہوا کیوں نشانے پر نہیں بیٹھا۔فرمایا یہ دعا ان لوگوں کی طرف سے مقبول ہوتی ہے جو متشابہات پر بھی ایمان لاتے ہیں اور محکمات پر بھی ایمان لاتے ہیں۔قرآن کریم کی آیات ہوں یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا کلام ہو یا دوسرے اولوا الامر کی اطاعت کا مسئلہ ہو یہ سلوک نہ کرنے والے ہوں کہ جو بات کھلی کھلی دلیل کے ساتھ سمجھ آجائے اس پر تو شرح صدر کے ساتھ ایمان لے آئیں اور جہاں ذرا بھی شک کا کوئی پہلو دیکھیں وہاں، شکوں میں مبتلا ہو جائیں تو ہمات میں مبتلا ہو جائیں۔شاید یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔شاید یہ بات پوری نہیں ہوئی۔یہاں زیادہ سختی ہو گئی ہے۔یہاں ہمارے مزاج کے خلاف بات ہو گئی ہے۔یہ متشابہات ہیں۔تو فرمایا اگر تم متشابہات پر ایمان نہیں لاتے اور متشابہات کو شرح صدر کے ساتھ قبول نہیں کرتے۔اگر میٹھا میٹھا کھانے کی عادت ہے اور ہلکا سا مزا بدلے تو تھوک دینے کے عادی ہو تو پھر یہ