ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 195 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 195

195 فرمانا۔استحقاق کوئی نہیں۔بار بار کی غلطیاں ہوں گی۔تیرے حضور حاضر ہوں گے کچھ لیکر نہیں حاضر ہوں گے۔ایسے اقرار بار بار توڑ چکے ہوں گے جو تیرے حضور مضبوطی سے باندھے ہوئے ہوں گے۔کئی دفعہ توبہ کی ہوگی۔ایسی صورت میں رحم کا سلوک فرمانا۔کہنا۔بڑے کمزور عاجز انسان ہیں ان کا کام ہی یہی ہے ، غلطیاں کرنا۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا ایک فارسی کا الہام بھی بیان کیا جاتا ہے کہ این مشت خاک را گر نه بخشم چه کنم کہ اس خاک کی مٹھی کو میں بخشوں نہ تو کروں کیا۔اس انسان کی حیثیت کیا ہے؟ اتنا کمزور اتنا ناقص ، بار بار گناہوں میں مبتلا ہونے والا۔چلو دفع کرو اس کو بخش ہی دو۔خاک کی مٹھی ہی تو ہے تو یہ معنی وارحمنا کے ہیں کہ اے خدا! پھر یہ کہہ دینا کہ چلو رحم ہی کر لیتے ہیں۔اور کچھ نہیں۔دعا کی قبولیت کا راز انت مؤلمنا یہ بات یاد رکھنا کہ ہمارا مولا تو ہے۔اس لفظ میں ساری دعا کے درد کو سمو دیا گیا ہے اور دعا کی قبولیت کا راز بیان فرما دیا گیا ہے۔فرمایا : ان سب حالتوں کے باوجود سوائے تیرے ہم نے کسی اور طرف نہیں دیکھا۔اپنی تمام کمزوریوں اور گناہوں کے باوجود تجھ سے اس معنوں میں وفا کی ہے کہ اپنا مولا صرف تجھے سمجھا ہے اور کسی اور کو نہیں سمجھا۔پس جب مولا تو ہے تو جائیں کہاں؟ دیکھئے ! وہی دعا ہے ناکہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہ اے خدا جب تیری عبادت کرتے ہیں کسی اور کی کرتے ہی نہیں تو مدد کس سے مانگیں؟ اور ہے کون ہم تیرا در چھوڑ کے جائیں کہاں چین دل آرام جان پائیں کہاں اور کچھ بھی نہیں ہے۔پس مولینگ نے وہ راز کھول دیا کہ کیوں ایسی عجیب و غریب سی دعائیں مانگو جن میں کوئی منطق نظر نہیں آتی۔کیوں خدا تم سے یہ سلوک کرتا چلا جائے۔یہ عرض کرنا کہ اے خدا ! ہمارا مولا تو ہے۔اگر ہم نے کسی اور کو مولا بنا لیا تو پھر