ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 186

186 بعد پھر ان کو پاک کرے گا۔مگر میں یہ کہتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم میں دو ایسی خوبیاں ہیں جن میں وہ سب دوسرے انبیاء سے ممتاز ہیں اور پہلے نہیں ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ایک ہیم کہ وہ ذاتی طور پر ایسی قوت قدسیہ رکھتا ہے کہ کتاب سکھانے سے پہلے اور اس کی حکمتیں بتانے سے پہلے محض اپنے وجود کی برکتوں سے لوگوں کو پاک کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔پس تلاوت آیات تو بہر حال اول ہے کیونکہ خدا کے پیغام کو سنائے بغیر کوئی طاقت بھی حاصل نہیں ہوتی لیکن ساتھ ہی فرمایا : ويزكيهم وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب والحكمة وہ پہلے پاک کرتا ہے اور پاک کرنے کے لئے کسی تعلیم کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا وجود خود پاک کرنے والا ہے اور دوسرا امتیاز یہ ہے کہ پہلے لوگ تو ایسے مدرسوں میں داخل ہوتے تھے کہ داخل ہونے سے پہلے پاک نہیں ہوتے تھے داخل ہونے کے بعد پاک کیے جاتے تھے اور گویا پاک ہو جاتا ان مدارس کا منتہی اور مقصود تھا۔فرمایا یہ اتنا اونچا مدرسہ بنایا گیا ہے کہ یہاں داخل ہونے کے لئے پاک ہونے کی ضرورت ہے۔جب تک پاک دل لے کر تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قدموں میں حاضر نہیں ہو گے تم اس درسگاہ سے کچھ حاصل نہیں کر سکو گے۔پس یہ دونوں مفاہیم بیک وقت صادق آتے ہیں اور اس دعا کی اہمیت بھی ہمارے سامنے ظاہر ہوتی ہے کہ کس طرح بعینہ ان چار صفات کا ذکر فرماتے ہوئے جن کو بڑی عاجزی کے ساتھ حضرت ابراہیم نے خدا سے مانگا تھا، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کی بعثت کا ذکر فرما دیا کہ وہ بعینہ وہی صفات لے کر پیدا ہوا ہے جو ابراہیم نے اس آنے والے کے لئے مانگی میں اب دیکھیں کہ دنیا کی تاریخ میں اس دعا نے کتنا عظیم الشان کام کیا ہے۔وہ لوگ جو اپنے لئے دعائیں کرتے کرتے مر جاتے ہیں وہ اپنے بچوں کے لئے دعائیں کرتے کرتے جان دے دیتے ہیں قائدہ تو ضرور ہوتا ہے لیکن تھوڑے ماحول میں چند دن کے فائدے پہنچتے ہیں لیکن حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا دیکھیں کتنی نافع الناس تھی، کتنی عظیم الشان تھی، تمام دنیا نے قیامت تک اس سے فائدے اٹھانے تھے اسی