ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 182 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 182

182 فَأُمَتَّعُه قَلِيلا ثم اضْطَرة إلى عَذَابِ النَّارِ، وَبِئْسَ الْمَصِيرُ۔وَإِذْ يَرْفَعُ إبْرجِمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ البَيْتِ وَإِسْمَعِيلُ، رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أنتَ السَّمِيمُ العَلِيمُ - رَبِّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَ مِن ذُرِّيَّتِنَا امَّةٌ مُسْلِمَةٌ لكَ۔وَارِنَا مَنَا سِنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ - رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب والحكمة ويزكيهم، إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (سورة البقره : ۱۲۷-۱۳۰) واذ قال إبرهمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا أمنا یہ اس وقت کی دعا ہے جبکہ خانہ کعبہ کے کھنڈرات تو موجود تھے یعنی بعض بہت پرانے اور تقریباً معدوم مٹے ہوئے آثار موجود تھے لیکن خانہ کعبہ کی کوئی عمارت نہیں تھی۔وحی الہی کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اس جگہ پہنچے ، اسے تلاش کیا اور وہیں آپ نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کو چھوڑا اور بعد میں جب حضرت اسماعیل بڑے ہو گئے اور آپ کے ساتھ مدد کرنے کے قابل ہوئے تب اس کی تعمیر نو شروع کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل کا حصہ اس میں ڈالنا ضروری تھا اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم نے حضرت اسماعیل کی نسل سے پیدا ہونا تھا اس لئے آپ نے انتظار کیا کہ یہ بچہ جو دنیا کے عظیم ترین نبی کا جد امجد بننے والا ہے جس کی خاطر خانہ کعبہ کی تعمیر کا آغاز ہوا تھا، جس نے خدا کے اس گھر کی تعمیر کے مقاصد کو اپنی انتہاء تک پہنچانا تھا اس کا ہاتھ بھی اس تعمیر میں ساتھ لگ جائے اور شامل ہو جائے۔نہیں قرآن کریم میں جہاں بھی تعمیر نو کا ذکر ہے وہاں حضرت ابراہیم کے ساتھ حضرت اسماعیل کو ضرور شامل فرمایا گیا اور دعاؤں میں بھی دونوں مل کر دعائیں کرتے ہیں۔اس وقت تک صرف دو ہیں لیکن آگے جا کر جو دعائیں آئیں گی ان میں تعداد بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔فرمایا : هذا يلدا أمنا اس جگہ کو امن کی جگہ بنا وارْزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ اور جو بھی یہاں رہیں ان کے لئے ہر قسم کے پھل ميا فرما - مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الأخر وہ لوگ جو اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان لانے والے ہوں۔خدا نے فرمایا : وَمَن كَفَرَ نَا مَتِّعَهُ قَلِيلًا - جو انکار بھی کر دے گا اسے بھی ان دنیاوی فوائد