ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 181 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 181

181 أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوالي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرة : ۱۸۷) کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ! جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو اني قريب میں قریب ہوں۔أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّامِ اِذا دَعَانِ ہر پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں جب وہ مجھے بلاتا ہے لیکن ایک شرط کے ساتھ۔فَلْيَسْتَجِيبُوالي میری باتوں کا بھی تو جواب دیا کریں۔میری باتوں پر بھی تو کان دھرا کریں۔یہ نہ ہو کہ یک طرف مجھے بلاوے بھیجتے رہیں اور جب میں ان کو بلاؤں تو وہ پیچھے ہٹ جائیں۔وَلْيُؤْ مِنو اني اور وہ مجھ پر سچا ایمان رکھیں۔لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ تاکہ وہ ہدایت پائیں اور کامیاب ہوں۔یه رشد کا رستہ قبولیت دعا کا رستہ ہے جو خدا تعالٰی نے ہمیں تفصیل سے سمجھایا کہ وہ کونسا رستہ ہے اور کیسے لوگ ہیں جو اس رستے پر چلتے ہیں تو انکی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔قرآن کریم کی سورتیں اگرچہ اس ترتیب سے نہیں ہیں جس ترتیب سے یہ نازل ہوئیں لیکن جو تریب وحی الہی کے مطابق مقرر ہوئی اور جس ترتیب کے ساتھ ہم قرآن کریم کو آج پاتے ہیں اس ترتیب میں گری حکمتیں ہیں اور مضمون کا تسلسل ہے۔میں دعاؤں کے تسلسل میں بھی خدا تعالٰی نے بعض گمری حکمتوں کو پیش نظر رکھا ہے، اس لئے میں ترتیب کو مضامین کے لحاظ سے بدلنے کی بجائے بعینہ اسی طرح آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس طرح قرآن کریم نے پیش فرمائی ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں سب سے پہلی دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیان ہوئی ہے اور ظاہر ہے کہ اس کی کیا اہمیت ہے۔آپ ابو الانبیاء کہلاتے ہیں یعنی وہ عظیم الشان نمیوں کا سلسلہ جس پر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم پیدا ہوئے اس کے جد امجد حضرت ابراہیم عليه الصلوة والسلام تھے۔فرمایا : وإذ قالَ ابْرُ جِمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا أَمِنَّا وارْزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَوتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، قَالَ وَمَن كَفَرَ