ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 180
180 گئی اس کا تفصیل کے ساتھ اعادہ کیا گیا اور پھر خدا نے وہ دعائیں بھی اکثر خود سکھائیں۔پس اب میں ان دعاؤں کے اس مضمون میں داخل ہوتا ہوں جس سے پتہ چلے گا کہ کس طرح خدا تعالٰی نے خود مومنوں کی یہ راہ آسان فرما دی۔انہیں دعاؤں کے طریق سکھائے یا ان کے بے ساختہ دل کی گہرائیوں سے اٹھی ہوئی دعاؤں کو قبول فرمایا اور ان کے ذکر کو بڑے پیار کے ساتھ قرآن کریم میں محفوظ فرما دیا۔دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں اور میں پھر اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں جس نے تمام انبیاء کی دعاؤں کا خلاصہ اس شان کے ساتھ اس حفاظت کے ساتھ پیش کیا ہو جس طرح قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔ہر قسم کی ضرورت کی دعا کے بہترین نمونے محفوظ کر دیے۔پس وہ لوگ جو یہ دعا مانگتے ہیں : اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أنعمت عليهم ان کے لئے ضروری ہے کہ اس دعا کی اگلی شاخوں سے بھی واقف ہوں۔یہ دعا جو آگے دعائیں پیدا کرتی ہے اور جن کے بغیر یہ سفر طے ہونا ممکن نہیں ہے ان دعاؤں پر نظر رکھیں ، ان کے پس منظر سے واقف ہوں۔ان کیفیتوں سے آشنا ہوں جن کیفیتوں میں وہ دعائیں مانگی گئی تھیں۔جوں جوں ہم اس مضمون میں آگے بڑھیں گے یہ مضمون جو بہت ہی مشکل دکھائی دیتا ہے آسان ہوتا چلا جائے گا اور ان مشکلات میں سے لذت پھوٹنے لگے گی۔پس اس لحاظ سے میں قرآن کریم کی دعائیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو اسی ترتیب سے ہیں جس ترتیب سے قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں۔میں نے ان کو مضمون وار الگ الگ نہیں کیا لیکن اس سے پہلے میں یہ بتادوں کہ ان دعاؤں کے متعلق خدا کا جو وعدہ ہے کہ میں قبول کرتا ہوں وہ وعدہ در حقیقت ایسی ہی دعاؤں کے متعلق ہے جن کا ذکر آنے والا ہے ورنہ بسا اوقات انسان اس مخمصے میں پھنس جاتا ہے کہ خدا نے تو وعدہ کیا ہے کہ میں دعائیں قبول کرتا ہوں اور میں بڑی دیر سے دعا کر رہا ہوں کہ یہ کر دے وہ کر دے یہ دے دے وہ دے دے اور مجھے کوئی جواب نہیں ملتا تو اس آیت کو جو میں آپ کے سامنے پڑھتا ہوں ان دعاؤں کے مضمون کے ساتھ ملا کر سمجھیں تو پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ کون سی دعائیں مقبول ہوتی ہیں اور کون سی مقبول نہیں ہوتیں۔فرمایا : وإذا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَانّي قَرِيبُ