ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 177
177 الفضل- لندن ر اپریل 1941ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ عبادت کرنے والوں کو الوادع کہنے والے تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا : مسافر گاڑیاں جب مختلف سٹیشنوں پر رکتے رکتے اپنا لمبا سفر طے کرتی ہیں تو ہر سٹیشن پر الگ الگ نظارہ ہوتا ہے۔کہیں تھوڑے مسافر چڑھتے ہیں۔کہیں زیادہ مسافر چڑھتے ہیں۔کہیں تھوڑے لوگ چھوڑنے کے لئے آئے ہوئے ہوتے ہیں کہیں زیادہ لوگ جو بڑے بڑے سٹیشن ہیں ان پر بہت رونق ہوتی ہے اور جب تک گاڑی چلتی نہیں سارا سٹیشن مختلف لوگوں کی گہما گہمی سے پر رونق ہوا ہوتا ہے۔چہل پہل ہوتی ہے۔باتیں ہو رہی ہوتی ہیں۔پھر گاڑی چلی جاتی ہے تو سٹیشن سونا سا رہ جاتا ہے۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو مسافر نہیں ہوتے صرف مسافروں سے ملنے کے لئے آئے ہوتے ہیں۔جمعتہ الوداع کی بھی کچھ ایسی ہی صورت ہے۔عبادت کرنے والوں کی گاڑی جو جمعہ یہ جمعہ ٹھرتی آخر رمضان مبارک کے جمعوں میں داخل ہوتی ہے تو اچانک جمعوں پر رونق بڑھنے لگتی ہے اور پھر ایک ایسا جمعہ بھی آتا ہے جیسا آج ہے جسے جمعتہ الوداع کہا جاتا ہے، اس جمعہ پر تو اتنی رونق ہوتی ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ سارے مسافر ہیں جو اس گاڑی پر چڑھنے کے لئے آئے ہیں لیکن جب یہ گاڑی یہاں سے گزر کر اگلے جمعہ پر پہنچتی ہے جو رمضان مبارک کے بعد آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسافر تو وہی چند ایک ہی تھے جو سارا سال سفر کرتے رہے باقی تو چھوڑنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔پس بہت سے ایسے بھی ایمان لانے والے ہیں اور مسلمان ہیں جو آج عبادت کرنے والوں کو چھوڑنے کے لئے آئے ہوئے ہیں، الوداع کہنے کے لئے آئے ہوئے ہیں۔خود بھی