ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 163 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 163

163 اللہ کی مدد کے بغیر دعا بھی ممکن نہیں پس إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کی دیکھیں کتنی ضرورت تھی۔شروع میں ہی خدا سے یہ التجا کرنے کی ضرورت تھی کہ عبادت تو تیری ہی کرتے ہیں اور کسی اور کی نہیں کرتے۔تیری کرنا چاہتے ہیں کسی اور کی نہیں کرنا چاہتے مگر اے خدا بہت مشکل رستہ ہے۔تیری مدد کے بغیر ہم وہ دعا بھی نہیں کر سکتے جو دعا تو ہمیں سکھا رہا ہے اور ابھی آنے والی ہے۔ہر دَايَّاكَ نَسْتَعِین کا یہ پہلو اخدنا الخراط المستقلة کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اس کا مطلب یہ بنے گا کہ اے خدا! ہمیں اس سچی دعا کی توفیق عطا فرمادے۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ جب آپ اس سارے مضمون کو قرآن کے بیان کی روشنی میں پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں تو یہ دعا بہت مشکل اور مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جاتی ہے۔بہت سے ایسے مقام آتے ہیں کہ جب انسان کا دل کانپ جاتا ہے، ڈر جاتا ہے اور اسے اس دعا کی تفصیل کے ساتھ ہمت نہیں پڑتی۔ان دعا کرنے والوں کی وہ تفصیل جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے ایک تاریخ کی صورت میں کھول کر رکھ دی ہے اس تفصیل کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ دعا مانگنے کی ہمت نہیں پڑتی۔پس إِيَّاكَ نَسْتَعین کی شدید ضرورت ہے کہ مدد مانگی جائے کہ اتنی اتنی ہمیں دعا سکھا اتنی اتنی دعا مانگنے کی توفیق عطا فرما جو تیری مدد سے آسان ہوتی چلی جائے اور طبعا " سچائی کے ساتھ دل سے اٹھے نہ کہ بناوٹ کے ساتھ ہونٹوں سے نکلے۔اس ضمن میں میں نے قرآن کریم کے آغاز سے لیکر آخر تک چند قرآنی بیانات کو اس دعا کے ساتھ منسلک کر کے آپ کے سامنے پیش کرنے کا اراد کیا لیکن جب میں نے سورہ بقرہ سے بات شروع کی تو یہ مضمون اتنا بڑھ گیا کہ نا ممکن تھا کہ ایک دو تین چار پانچ دس جمعوں میں بھی اس کا حق ادا کیا جائے۔پس میں نے کچھ نمونے سورہ بقرہ سے آپ کو سمجھانے کے لئے کہ جب آپ قرآن کریم کا مطالعہ کریں گے تو اس دعا کے ساتھ منسلک کر کے مطالعہ کریں اور پھر ہر دفعہ یہ سوچیں کہ میں یہ دعا مانگا کرتا ہوں اور آئندہ بھی یہ دعا مانگا کروں گا اور پھر میں نے کچھ ٹکڑے کہیں سے کچھ ٹکڑے کہیں سے غرضیکہ چند نمونے قرآن کریم کی مختلف جگہوں سے اکٹھے کئے تاکہ آپ کو اس دعا کا