ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 154 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 154

154 بہت سے کمزور ہیں جو اس عشرے میں جاگ اٹھتے ہیں جو سارا سال غفلت میں سوئے پڑے رہتے ہیں ان کے لئے بھی ہمیں دعا کرنی چاہئیے کہ ان کی آنکھ ایسی روشنی میں کھلے کہ پھر انہیں ہمیشہ کے لئے روشنی سے محبت ہو جائے اور سوائے مجبوری کے پھر وہ آنکھیں بند کرنے والے نہ ہوں۔ایسے بھی لوگ ہیں جو اس عشرے سے ڈرتے ہیں اور خوف کھاتے ہیں کہ شاید ہم اس کا حق نہ ادا کر سکے ہوں۔ایسے بھی ہیں جو روزے نہیں رکھ سکتے اپنی کمزوریوں کی وجہ سے اور وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی سب خلقت اس کی رحمتیں لوٹ رہی ہے اور ہم محروم ہوئے بیٹھے ہیں۔اگر چہ قرآن کریم میں ان کے لئے یہ خوش خبری ہے کہ تم پر کوئی حرج نہیں۔تمہارا کوئی جرم نہیں اور خدا تعالی تم سے مغفرت کا سلوک فرمائے گا مگر دلوں کا کیا علاج کہ وہ اپنے آپ کو محروم سمجھتے اور اس محرومی میں جلتے ہیں، ان کے لئے بھی ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالٰی ان کی سکینت کے سامان فرمائے اور ان کی محرومیوں کو عنایات میں تبدیل فرما دے اور ان کی دعاؤں کو جس حال میں بھی وہ ہیں اس حال میں سنے۔ایسے بھی ہوں گے جو اٹھ نہیں سکتے جو کھڑے ہو کر عبادت ادا نہیں کر سکتے۔ایسے بھی ہیں اور ہونگے جو بیٹھ بھی نہیں سکتے اور مجبورا بستروں پر پڑے رہتے ہیں۔ایسے بھی ہوں گے جو کروٹ تک نہیں بدل سکتے۔ایسے بھی ہوں گے جو اب تک نہیں ہلا سکتے۔پس ان سب مجبوروں کو بھی ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالی ان کی مجبوریوں اور بے بسوں پر رحمت کی نظر فرمائے اور ان کے دلوں سے وہ دعائیں اٹھائے جن کا میں نے ذکر کیا ہے کہ بسا اوقات اس عشرے میں خدا کی قبولیت آسمان سے زمین پر اترتی ہے اور دلوں سے دعاؤں کو اُٹھا کر عرش تک پہنچا دیتی ہے۔سورۂ فاتحہ کا مضمون آخری مراحل میں اس خاص عشرے کے دوران یہ حسن اتفاق ہے یا اللہ تعالیٰ کا تصرف ہے کہ وہ مضمون بھی اپنے آخری مراحل میں داخل ہو رہا ہے جو میں گزشتہ کچھ عرصے سے سورۂ فاتحہ سے متعلق بیان کر رہا ہوں۔اور ان دونوں باتوں کا انطباق ہو چکا ہے۔پس آج کے مضمون میں میں اس حصے کی طرف احباب جماعت کو متوجہ کروں گا۔پہلے بھی میں