ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 150
150 محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی راہ کو چھوڑ کر ایک ایسے بدبخت کی راہ اختیار کرلی جس نے ہمیں ذکر سے یعنی قرآن کریم سے پرے ہٹا دیا۔پس ہر ایسا دوست جو خدا تعالٰی کی راہ میں قدم بڑھانے سے مانع ہو۔ہر ایسا تعلق جس کے نتیجے میں انسان رفته رفتہ نیکیوں سے محروم ہوتا چلا جائے اور پیچھے ہٹتا چلا جائے اور بدیوں کی طرف پڑھنا شروع کر دے تو وہی خلیل ہے ، وہی مغضوب علیہم کی راہ دکھانے والا ہے۔وہی ضائین کی راہ دکھانے والا ہے۔روح کی غذا کی طرف بچوں کو متوجہ کریں پس ایسے تعلقات سے پر ہیز کریں اور صحبت صالحین اختیار کریں یعنی ایسے لوگوں سے تعلق بڑھا ئیں جن کے نتیجے میں آپ کو قرآن کے ساتھ محبت بڑھتی ہو اور رسول کے ساتھ محبت بڑھتی ہو۔اس ذکر کو اپنے گھروں میں عام کریں۔آج کل بہت ہی اچھا موقعہ ہے۔نمازوں کی طرف توجہ ہے۔بچے بھی اٹھتے ہیں۔اگر وہ روزے نہیں رکھ سکتے تو سحری کھانے کے لئے اٹھ جاتے ہیں۔اگر ایک روزہ نہیں رکھ سکتے تو بعض بچے ایک دن میں دو دو تین تین روزے رکھتے ہیں، ایک بچے سے میں نے ایک دفعہ پوچھا کہ کتنے روزے رکھے تو اس نے کہا : آج میں نے پانچ روزے رکھے تو بہوں سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن روزے کا احترام ہے۔مجھے یہ جواب سن کے بڑی خوشی ہوئی۔اس کے دل میں روزے کا پیار ہے۔وہ اسے قابل فخر سمجھتا ہے اس لئے اس نے دن میں پانچ دفعہ کھانا کھایا تو اس نے کہا : میں نے پانچ روزے رکھتے ہیں تو ان پانچ روزے رکھنے والوں کو پانچ نمازوں کی بھی عادت ڈالیں۔ان کو بتائیں کہ یہ نمازیں تو تم پڑھ سکتے ہو اور نماز کے طریق سمجھائیں۔حمد کی جو باتیں آپ سنتے ہیں وہ آگے ان کو ذہن نشین کروائیں اور گھر میں پیار کی مجلسیں لگائیں ، عورتوں بچوں کی مجالس اور ان کو سمجھائیں کہ اس طرح عبادت کی جاتی ہے۔یہ یہ مقاصد ہیں۔پھر جن بچوں کو یہ توفیق ملتی ہے کہ وہ روزہ رکھ سکیں ان کو ساتھ ساتھ یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ روزہ محض صبح کچھ کھانے سے نہیں رکھا جاتا کیونکہ محض کھانے سے تو جسم کو غذا ملتی ہے اور یہ مہینہ روح کی غذا کا ہے۔اس لئے تم صبح نفلی عبادت بھی کیا کرو۔پس یہ سمجھانے کی ضرورت