ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 143
143 دکھایا ہے۔ایسا کشکول ہے جس میں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔روحانی لباس میں وہ لوگ اس طرح خدا کے حضور ظاہر ہوئے ہیں کہ تقویٰ کے لباس سے مزین ہونے کے باوجود وہ اپنے آپ کو اس طرح پیش کر رہے تھے جیسے بھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس کوئی فقیر ہو اور فقیر بن کر اس کی راہ میں بیٹھے تھے اور فقیر بن کر دعائیں کرتے تھے۔حضرت موسیٰ الصلوۃ والسلام کی وہ دعا دیکھیں۔رت الي لِمَا انْزَلَتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرُ اے میرے رب! لِمَا انْزَلَتْ إِلَيَّ مِن خَيْرٍ فَقِير جو بھی خیرات تو میری جھولی میں ڈال دے میں اس کا فقیر بنا بیٹھا ہوں۔میرے پاس کچھ بھی نہیں۔پس انبیاء کی دعاوں پر غور کرنے سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے کبھی دعا کی مقبولیت کی خاطر اپنی خوبی یا نیکی کا حوالہ نہیں دیا۔پھر یہ حدیث اگر ان معنوں میں لی جائے جو میں نے بیان کئے ہیں تو اس تمام تاریخ انبیاء سے ٹکرا جائے گی۔جو درست نہیں ہے۔اس حدیث کا اور معنی ہے۔اس حدیث کو میں اس نظر سے دیکھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ان بندوں کی خوبی یا ان کی چالا کی نہیں بتا رہے بلکہ اللہ تعالی کی رحمت اور عظمت کا بیان فرما رہے ہیں۔یہ تما رہے ہیں کہ ایسے تہی دامن لوگ جن کو ساری زندگی پر نظر ڈالنے کے بعد وہ نیکی دکھائی دی جو عام معیار سے کوئی خاص نیکی بھی نہیں۔کسی معصوم عورت کی عزت نہ لوٹنا بھلا کونسی نیکی ہے اور فاقہ کشی کے وقت میں ایسے وقت میں جب کہ انسان کا دل نرم ہو چکا ہوتا ہے اور نرم ہونے کے بعد بجائے کسی اجرت کی طلب کے ویسے ہی انسان جو کچھ گھر میں ہے وہ غریبوں کے لئے خرچ کرنا چاہتا ہے۔ایسے سخت تکلیف کے دور میں کسی کی عزت کا سودا نہ کرنا یہ کون سی نیکی ہے۔اللہ کی رحمت اور بخشش کی وسعت پس آنحضرت صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ایسے تہی دام گنگار لوگ جن کی ساری زندگی میں کوئی نیکی نہیں تھی اور ایک بدی سے بچو کی نیکی تھی۔جب اس کا حوالہ دیا گیا تو اللہ اتنا رحمان ہے اور انتخا رجہ کرنے والا ہے کہ اس نے کہا : ہاں میرے بندے! اگر یہ نیکم