ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 142
142 کے ساتھ دعا کرنی چاہئیے۔بعد میں مجھے خیال آیا کہ بعض لوگوں کو ایک حدیث کے نتیجے میں غلط فہمی نہ پیدا ہو کہ گویا یہ مضمون آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ارشاد کے نعوذ بالله من ذلك مخالف ہے۔وہ حدیث ہمیں تین ایسے آدمیوں کا پتہ بتاتی ہے جو ایک غار میں کسی کام کے غرض سے گئے۔پیچھے زلزلے کے نتیجے میں ایک بہت بھاری چٹان لڑھک کر اس غار کے منہ پر آپڑی اور غار کا منہ بند ہو گیا اور ان کے لئے اس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں تھی اور بالکل بے طاقت تھے کہ وہ اس پتھر کو سرکا سکیں۔تب ان میں سے ایک نے یہ سوچا کہ میں نے اپنی زندگی میں کونسا ایسا کام نیکی کا کیا ہے کہ جس کے حوالے سے میں دعا مانگوں تو اللہ تعالٰی کو رحم آجائے گا اور اس نے بہت سوچ بچار کے بعد اپنی ایک ایسی نیکی ڈھونڈی اور پھر اس نیکی کے حوالے سے دعا کی تو وہ پھر کچھ سرک گیا۔پھر دوسرے شخص نے بھی اس کی مثال پکڑی اور اپنی نیکیوں پر نظر ڈال کر اپنی زندگی پر نظر ڈال کر ایک نیکی ایسی تلاش کی جس کے متعلق وہ سمجھتا تھا کہ خاص مقام رکھتی ہے اور اللہ تعالٰی کو پسند آئے گی۔چنانچہ اس نے اپنی عرضداشت پیش کی وہ مقبول ہوئی اور وہ پھر کچھ اور سرک گیا لیکن ابھی ان کے نکلنے کی راہ کافی نہیں تھی۔پھر تیسرے کو بھی یہی خیال آیا اور اس نے بھی اپنی ایک نیکی تلاش کی اور بالآخر وہ پتھر مزید ہٹ گیا اور ان تینوں کی نجات کی راہ نکل آئی۔یہ مضمون تو جاتا ہے کہ اپنی نیکیوں کے حوالے سے دعا کرنا نہ صرف جائز بلکہ ایک اعلیٰ درجے کی گویا خوبی ہے لیکن جو لوگ یہ نتیجہ نکالتے ہیں وہ اس حدیث کے مفہوم کو نہیں سمجھتے کیونکہ اگر اس حدیث کا یہ مفہوم ہوتا تو انبیاء کی دعاؤں میں ہمیں کہیں تو ایک جگہ ایسی دعا ملتی جس میں خدا کے کسی نبی نے اپنی نیکی کے حوالے سے دعا کی ہو۔میں نے تو گہری نظر سے قرآن کریم کی دعاؤں کا مطالعہ کیا ہے، احادیث کی دعاؤں کا مطالعہ کیا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کا مطالعہ کیا ہے۔مجھے کہیں اشارہ بھی کوئی ایسی دعا دکھائی نہیں دی جس میں کسی نبی نے بھی یہ عرض کیا ہو کہ اے خدا! میں یہ ہوں اور میری اس نیکی پر نگاہ ڈال۔اور میری خاطر یہ کام کر دے۔کہیں کوئی ذکر نہیں۔اپنے آپ کو بالکل تہی دامن کر دیا ہے۔خالی ہاتھ