ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 11
11 ہی ملے گا اور اس میں کوئی ظلم نہیں۔یہ اس بات کا ایک طبیعی منطقی نتیجہ ہے۔آپ جب خدا سے یہ عرض کرتے ہیں کہ ہم صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں تو جواب یہ مل سکتا ہے کہ تو فلاں کا بھی دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، فلاں کا بھی کھٹکھٹاتا ہے۔تیرے نزدیک فلاں مخص اتنی عظمت رکھتا ہے کہ جب سچ اور جھوٹ کا سوال ہو تو اس کی عظمت کے سامنے تو سچ کو قربان کرتے ہوئے بھی جھک جاتا ہے۔تیرے ذہن میں فلاں چیز کی اتنی طاقت ہے کہ اس سے مدد مانگنے کی خاطر تو ہر اس فعل پر آمادہ ہو جاتا ہے جس کو خدا نے منع کیا ہے۔غرضیکہ ایک بہت ہی تفصیلی مضمون ہے اور روز مرہ کی زندگی میں جب ہم اپنی ذات پر اور اپنے گردو پیش پر چسپاں کرتے ہیں تو آدمی اگر صاحب ہوش ہو تو اس کے ہوش اڑ جائیں۔ساری عمر کی عبادتوں میں اگر وہ مغز ڈھونڈنے گئے تو اتنا تھوڑا ملے گا جیسے جلے ہوئے گھر سے راکھ مٹول کر انسان اپنی کوئی چھوٹی سی چیز تلاش کر رہا ہو۔پس جو عبادتیں خالی ہوں گی وہ کیا مانگیں گی؟ کیونکہ ہر مانگنے کے جواب میں، ہر سوال کے جواب میں خدا کی تقدیر اسے یہ کہہ رہی ہوگی کہ نہ نہ تم ایسی باتیں نہ کرو۔تکلف نہ کرو۔تم دوسروں کی عبادت کیا کرتے تھے خواہ ظاہری طور پر نہ سہی لیکن جب مدد مانگنے کا وقت آتا تھا تو کسی اور کو طاقت ور سمجھتے تھے اور اس کا دروازہ کھٹکھٹایا کرتے تھے۔اس لئے بے تکلفی سے صاف حق کا اقرار کر لو۔بات یہ ہے کہ تم میرے دروازے کھٹکھٹانے کا تکلف کرنے کے اہل نہیں ہو۔جس کی حمدہ تمہارے دل میں ہے۔جس کی حقیقی عبادت کرتے ہو اس سے مانگو اگر وہ تمہیں کچھ دے سکتا ہے۔دعا وہی قبول ہوتی ہے جو قبول ہونے کا حق رکھتی ہے پس یہ جو فرق ہے کہ بعض دعائیں قبول ہوتی ہیں اور بعض نہیں۔آنسو فرق نہیں پیدا کرتے۔بعض لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ ہمیں عبادت میں کس طرح مزا آئے۔ہم تو روتے روتے سجدہ گاہوں کو تر کر دیتے ہیں مگر ہماری مطلوبہ چیز نہیں مل رہی۔ان کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ جس چیز کو وہ خدا بنا بیٹھے ہوں پھر اس سے اسی کا وجود ما نگیں کیونکہ جب وہ اتنی زیادہ پیاری لگنے لگ گئی ہو کہ وہی قبلہ بن چکی ہو اور خدا کی طرف حمد صرف لفظوں سے منسوب کی جارہی ہو اور فی الحقیقت خدا کی کائنات میں دوسری مختلف