ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 134
134 انسان کا کوئی دفاع نہیں ہے۔پس تیسری دنیا کے ملکوں کو میں بار بار نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی اندرونی اصلاح کریں۔اپنے اخلاق درست کریں۔اپنے اندرونی تعلقات کو درست کریں۔انکسار پیدا کریں اور فی الحال غیر قوموں پر انحصار کو اگر فوری طور پر ترک نہیں کر سکتے تو کم سے کم یہ منصوبہ بنا ئیں کہ جتنی جلد ہو سکے گا آپ غیر قوموں پر انحصار سے توبہ کریں گے اور خود داری کی زندگی بسر کریں گے خواہ فریبا نہ ہو۔اگر یہ نصیحت تیسری دنیا نے مان لی اور جماعت نے دعائیں کی اور وہ مقبول ہوئیں اور اگر سب نے نہیں تو آہستہ آہستہ بعض ملکوں نے ان پر عمل کرنا شروع کر دیا تو پھر ہم یہ یقین کر سکیں گے کہ اگر طاقت وروں نے غلطی کی تو پھر بھی اس کا اتنا بڑا نقصان بنی نوع انسان کو نہیں پہنچے گا کیونکہ کمزور اپنی اصلاح کے ذریعے ان غلطیوں کی زد سے بچتے چلے جائیں گے اور اپنا دفاع وہ خود تیار کر لیں گے۔اگر یہ نہ ہوا تو آپ دیکھیں گے کہ جگہ جگہ جنگیں ہوں گی۔غریب قومیں غریب قوموں سے لڑیں گی۔امیر قوموں سے ہتھیار خریدیں گی اور اپنے غرباء کا خون چوس کر اپنے ساتھی غرباء کا خون بہانے کے انتظامات کریں گی۔یہ اس دنیا کا خلاصہ ہے۔بڑا مکروہ خلاصہ ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ جب اخلاق ست ناری ہو کر سیاست پر نظر کی جاتی ہے تو اس کے سوا اور کوئی خلاصہ نہیں نکل سکتا۔لیس اپنے اس رمضان میں خاص طور پر دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو عقل اور تقویٰ اور انصاف عطا کرے اور جماعت احمدیہ کو یہ توفیق بخشے کہ انتہائی کمزور ہونے کے باوجود اپنی دعاؤں کے ذریعے اس دور میں سب سے زیادہ اہم تاریخی کردار ادا