ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 10
عبادت کو حمد سے خالی نہ ہونے دیں اب جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ خدا کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتا یعنی دعا کرنے والا قطعی طور پر خدا ہی کی عبادت کرتا ہے اور کسی اور کی عبادت نہیں کرتا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مدد اسی سے مانگے گا اور کوئی مدد کے لئے رہا ہی نہیں کیونکہ جب معبود اٹھ گئے تو معبود تو ہوتے ہی وہ ہیں جن کے سامنے انسان اپنی ساری ہستی جھکا دیتا ہے اور اس سے بڑا اور کسی کو نہیں دیکھتا۔اس کے بعد اور کون سا دروازہ رہ جاتا ہے جس کو کھٹکھٹانے کے لئے وہ اپنی ضروریات کی خاطر جائے گا۔پس اتات نستعين کا مضمون ايّاكَ نَعْبُدُ سے از خود پیدا ہوتا ہے اور اتنا ہی پیدا ہوتا ہے جتنا کہ ایاک نعبد کے اندر سچائی پائی جاتی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔پس اگر کسی کی عبادتیں حمد سے خالی ہوں اور حمد غیروں کے لئے ہو خواہ بظا ہر اس کی عبادت کرنے یا نہ کرے تو اس کی حمد سکڑ کر چھوٹی سی رہ جاتی ہے۔کہتا تو یہ ہے کہ اے خدا میں صرف تیری عبادت کرتا ہوں مگر جو موحد ہو اسکی مراد یہ ہوتی ہے کہ اے خدا ! میری نیت یہی ہے کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کروں لیکن اس کی حمد چونکہ دنیا میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے اور لوگ خود قبلہ بن چکے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ قبلہ نما ہوں۔اس پہلو سے اس کی عبادت جتنا حمد سے خالی ہوتی ہے اتنا ہی سکڑ کر اس طرح بن جاتی ہے جیسے کوئی فالج زدہ جسم ہو۔ہاتھ سکڑ کر پہلو کے ساتھ بغیر طاقت کے لٹک جاتا ہے، ہاتھ تو رہتا ہے۔اسی طرح عبادت کی ظاہری شکل تو رہے گی لیکن چونکہ حمد سے خالی ہو گی اس لئے وہ جان سے خالی ہوگی۔وہ زندگی سے خالی ہوگی۔وہ روح سے خالی ہوگی۔وہ طاقت سے خالی ہوگی۔وہ اثر سے خالی ہوگی اور اسی نسبت سے اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں کمزوری آجائے گی۔خدا کی تقدیر اندھی تو نہیں ہے۔خدا کی تقدیر تو اتنی صاحب بصیرت ہے کہ ان باریک ترین چیزوں کو بھی دیکھتی ہے جن پر انسان کی نظر پڑ ہی نہیں سکتی۔اللہ کی تقدیر از خودرايّاكَ نَسْتَعِین کا جواب بنتی ہے لیکن یہ دیکھ کر کہ اِيَّاكَ نَسْتَوتين میں کتنی استطاعت ہے۔مانگنے کی استطاعت دیکھی جاتی ہے ظرف کے مطابق دیا جاتا ہے ہیں ایسا شخص جس کی عبادت چھوٹی سی رہ گئی ہو اس کی استعانت کا جواب بھی اتنا