ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 9

جاتی ہے یہاں تک کہ آپ وقت نہ ہونے کی وجہ سے یا غور کی زیادہ قوت نہ پانے کی وجہ سے استطاعت نہ رکھنے کی وجہ سے آگے گزر جائیں تو آپ کی مرضی ہے ورنہ سورۃ فاتحہ کے ہر لفظ پر ٹھہر جائیں تو ساری زندگی اس ایک لفظ میں گزر سکتی ہے اور بغیر اکتاہٹ کے گزر سکتی ہے۔ایک عجیب مضمون ہے ہر ہر لفظ میں جو آگے ایک پورا جہان بناتا چلا جاتا ہے۔پھر اِيَّاكَ نَعْبُدُو اِيَّاكَ نَستعین کا مضمون ہے۔عبادت کا حمد سے بہت گہرا تعلق ہے اگر حمد نہیں ہوگی تو عبادت بھی نہیں ہوگی اور یہ دعوی کہ إيَّاكَ نَعْبُدُ صرف تیری عبادت کرتے ہیں، ایک بہت بڑا دعوی ہے جو حمد کے مضمون سے گزرے بغیر بالکل جھوٹا بن جاتا ہے۔جب تک انسان یہ اقرار نہ کرے اور پورے صدق دل سے اس اقرار کو سمجھ کر اس کا قائل نہ ہو کہ تمام حمد خدا کے لئے ہے اس وقت تک تمام عبادت خدا کے لئے ہو ہی نہیں سکتی۔اگر حمد کا کوئی پہلو کسی اور کے لئے ہے تو عبادت کا ہر پہلو خدا کے لئے نہیں ہو سکتا۔یہ ایک ایسی حسابی بات ہے جس کے اندر کوئی تبدیلی ممکن ہی نہیں ہے۔یہ EQUATION ہے ایک MATHEMATICS کی۔اور ایسی قطعی ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس EQUATION کو بدل نہیں سکتی۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کو جو اتنا عظیم مقام عطا ہوا کہ کائنات کی ہر چیز تو درکنار ہر نبی سے آگے بڑھ گئے تو اس مسئلے کو سمجھنے کا آخری نقطہ یہ ہے کہ آپکی ساری حمد بلا استثناء خدا کے لئے ہو گئی تھی۔اس لئے ایک وہ شخص تھا جو جب یہ کہتا تھا کہ ایاک نخب تو کامل طور پر اس اقرار میں سچا تھا صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کیونکہ واقعتہ " آپ کی ساری حمد خدا کے لئے تھی۔اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا ايَّاكَ نَعْبُدُ کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔ہم جب خدا سے مدد مانگتے ہیں تو اس سے پہلے یہ اقرار کر رہے ہوتے ہیں کہ اے خدا! ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تیری عبادت کرتے ہیں۔ہر شخص کی نیت نہیں ہوگی اس سے تو کوئی انکار نہیں ہو سکتا یعنی انکار کرنے کا کسی کو حق نہیں۔لیکن یہ قطعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ کلیتہ اس مضمون کا حق حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ادا فرمایا اور پھر وہی ادا کر سکتا ہے جو آپ کا کامل غلام ہو۔