ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 126

126 جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قدموں تک پہنچنے کی سعادت نصیب ہو جائے۔اس کے بعد مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الایت کا مضمون شروع ہوتا ہے اور وہاں بھی یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ مغضوب علیم کی تشریح میں اگر چہ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہود مراد ہیں اور ضالین کی تشریح میں اگرچہ ہم کہتے ہیں کہ عیسائی مراد ہیں مگر اللہ کی یہ شان ہے اور سورۂ فاتحہ کی فصاحت و بلاغت ہے کہ کسی قوم کسی مذہب کا نام نہیں لیا۔مضمون صرف یہ بیان فرمایا گیا کہ خدا کی مذکورہ چار بنیادی صفات سے جو شخص کلیتہ " تعلق کاٹ لے گا یا اس حد تک کاٹ لے گا کہ خدا کی رحمت سے وہ کاٹا جائے تو اسے منصوب علي شمار کیا جائے گا اور جو شخص کچھ تعلق برقرار رکھے گا لیکن ٹیڑھے رنگ میں اور کبھی کے ساتھ، اس کو ضالین کے زمرے میں شمار کیا جائے گا۔اس مضمون پر آپ غور کریں تو بہت ہی وسیع تاریخی مطالعہ ہے جو آپ کے سامنے کھلتا ہے وہ قومیں جو مغضوب ہوئیں۔قرآن کریم نے خود بیان فرمایا ہے کہ کیوں مغضوب ہوئیں۔کس کس طرح کس کس جگہ انہوں نے خدا کی بنیادی صفات سے اپنا تعلق توڑا اور ایک دفعہ نہیں بار بار تو ڑا اور کتنے لمبے عضو کے بعد کتنے لمبے علم کے بعد بالآخر اللہ تعالٰی نے انہیں مغضوب قرار دیا تو اس کے مطالعہ سے آپ کو معلوم ہو گا کہ کن چیزوں سے بچنا ہے اور یہ بھی معلوم ہوگا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کوشش فرض ہے۔اگر ایک ٹھوکر کھاتے ہیں تو تب بھی، اگرچہ خطرے کا مقام ہے لیکن آخری طور پر آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ کے لئے مردود نہیں قرار دے دیا گیا۔خدا تعالٰی نے قوموں کو ایک لمبے عرصے کے بعد جو ہزار سال سے زائدہ عرصے پر پھیلا پڑا ہے ان کو ان کی بار بار غلطیوں کے نتیجے میں اور غلطیوں پر اصرار کے نتیجے میں مغضوب قرار دیا۔پس اس سے جو تصویر ابھرتی ہے وہ یہ ہے کہ آخری سانس تک جینے کی امید تو ہے لیکن اگر غلطیاں کرتے ہوئے ہم مارے گئے تو ہم مغضوب کی حالت میں مارے جائیں