ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 125
125 تعلق جوڑا رحمانیت سے تعلق جوڑا رحیمیت سے تعلق جوڑا مالکیت سے تعلق جوڑا اس کے بعد یہ تعلقات کا معیار بہت بلند ہو چکا ہے۔اس لئے آئندہ کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ فرض کر دیا کہ و من يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ انْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ (سورة النساء :20) اب ربوبیت رحمانیت رحیمیت اور مالکیت سے عام تعلق کام نہیں دے گا جو اللہ اور اس رسول کی اطاعت کرے گا اور ان اداؤں کے ساتھ خدا سے تعلق باندھے گا جن اداؤں کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنے رب سے تعلق جوڑا ہے اس کے لئے انعامات کے سب دروازے کھلے ہیں اور چونکہ یہ مضمون مشکل ہو گیا اور بلند تر ہو گیا ہے اور ویمانسسٹر پٹر (DEMONSTRATOR) نے جس نے اس مضمون کو اپنی زندگی پر جاری کر کے دکھایا تھا اس مضمون کو درجہ کمال تک پہنچا دیا ہے اس لئے آخری مقام تک پہنچنا مشکل تر ہو گیا ہے لیکن اس اطاعت کے ادنیٰ مقام بھی ایسے ہیں جو گذشتہ زمانے کے اعلیٰ مقامات کے برابر درجہ پانے والے ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اس مضمون کو اس طرح کھول کر بیان فرما دیا کہ عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَانَبِيَاء بني استرايد ليل علماء تو نبی نہیں ہیں اور میری امت کے معیار کے لحاظ سے نبی نہیں ہیں لیکن جہاں تک گذشتہ امتوں کا تعلق ہے ان کے نبیوں کے برابر تو میری امت میں تمہیں بہت سے علماء اور ولی اور بزرگ ملیں گے۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کے پیش نظر انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ نے ایک ایسا وسیع دروازہ کھولا ہے اور ہمیں ایک ایسے راستے پر قدم بڑھانے کی دعوت دی ہے جو لامتناہی ہے اور تمام انبیاء کی گذشتہ تاریخ ہمارے سامنے اکٹھی صورت میں پیش کر دیتا ہے کہ گویا اس راستے پر دور تک مختلف جھنڈے لگے ہوئے ہیں اور سب سے آخر پر مقام محمدیت کا جھنڈا ہے اور مسلسل یہ صلائے عام دے رہا ہے کہ آتا ہے تو یہاں تک آؤ اور اس سے پہلے رکنے کی کوشش نہ کرو۔اس سے پہلے کی ممکن تمہیں مغلوب نہ کردے۔پس اس سفر میں جس مقام پر بھی انسان دم دے وہی مقام انعمت علیکم کا مقام ہے اور بہت ہی بڑا خوش نصیب ہے