ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 119 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 119

119 محمد رکھنے میں یہ ایک بہت بڑی حکمت تھی کہ آپ نے اپنی تمام حمد ساری زندگی ہمیشہ کلیه " خدا کے حضور پیش کی اور آپ ہمیشہ حمد سے خالی ہوتے چلے گئے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالٰی نے آپ کو محمد بنا دیا۔پس احمد محمد میں تبدیل ہوتے ہیں اگر وہ خالص ہوں اور بچے ہوں اور مخلص ہوں اور احمد کے طور پر خدا کی حمد کریں اور اپنا بت پیچ میں حائل نہ ہونے دیں۔اس نقطہ نگاہ سے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعلمین کا مضمون انسانی تربیت کا ایک بہت ہی لمبا سلسلہ ہمارے سامنے پیش کرتا ہے اور یہ سلسلہ ساری زندگی ختم نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ مضمون ایسا باریک ہے اس کے بعض پہلو انسانی نظر سے ایسے مخفی رہتے ہیں کہ ساری زندگی کی محنت اپنے آپ کو اپنی حمد سے پاک کرنے کے لئے درکار ہے اور اس کے باوجود بھی انسان اس مقام محمود کو حاصل نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کو عطا ہوتا ہے۔اس لئے دعا کے ساتھ مدد مانگتے ہوئے انسان کو نفس کا یہ جہاد ہمیشہ جاری رکھنا چا ہیے۔جو انسان اپنی محمد کا عادی ہو وہ اکثر اوقات فرح منٹور بھی ہو جایا کرتا ہے۔اس کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بے حد خوش ہونے کی عادت پڑ جاتی ہے اور تعلی کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے فرح کے مضمون کو حمد کے ساتھ یعنی انسان کی جھوٹی محمد کے ساتھ باندھ کر پیش فرمایا ہے۔اس کا میں آگے جاکر ذکر کروں گا، لیکن اس کے نظارے آپ نے بسا اوقات کھیلیوں کے میدانوں میں بھی دیکھے ہونگے کہ کبڈی کا ایک کھلاڑی ہے وہ کسی اچھے مضبوط کھلاڑی کو پنجابی میں جس کو دھول" کہتے ہیں ارد میں پتہ نہیں۔دھول دھپا تو خیر اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے) ایک دھول لگا کر گراتا ہے اس کے شکنجے سے نکل کر واپس بھاگتا ہے تو عجیب و غریب حرکتیں کر رہا ہوتا ہے۔بعض دفعہ وہ ہاتھ اونچے کر کے دونوں انگلیاں کھڑی کر دیتا ہے۔بعض دفعہ منہ سے آوازیں نکالتا ہے کہ میں نے کمال کر دیا ہے۔بعض دفعہ وہ چھاتی پر ہاتھ مارتا ہے۔اس طرح فٹ بال کے میدان میں بھی جب بھی کوئی شخص گول کرتا ہے تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہ کس طرح عجیب و غریب حرکتیں کرتا اور اچھلتا کودتا اور فخر و مباہات کے اردو