ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 118
118 محدود نہیں رہا کرتا بلکہ پھیلتا ہے اور بڑھتا ہے اور زیادہ طاقت ور ہوتا چلا جاتا ہے۔اسی طرح ایک اچھا مقرر ہے جب وہ بہت اچھی تقریر کرتا ہے اور داد پاتا ہے یا ایک اچھا شاعر ہے جسے خدا توفیق دیتا ہے کہ اپنے خیالات کو نہایت لطافت کے ساتھ شعروں کو خوبصورت کوزوں میں بند کر کے دنیا کے سامنے پیش کرے تو عموماً یہی مضمون دو ہرایا جاتا ہے جس کا میں پہلے آواز کے سلسلے میں ذکر کر چکا ہوں۔ہر صلاحیت اللہ کی عطا کردہ ہے ایک اچھا مصور ہے۔ایک اچھا معلم ہے۔ایک اچھا مناع ہے غرضیکہ انسان کے اندر خدا تعالٰی نے جتنی صلاحیتیں پیدا فرمائی ہیں خواہ وہ جسمانی ہوں ، علمی عقلی ہوں یا قلب سے تعلق رکھنے والی ہوں ان سب پر میمی مضمون صادق آتا ہے کہ ہر انسان بالاخر اپنی مدح میں ڈوب جاتا ہے اور ایسا شخص جب بار بار خدا کے حضور یہ اقرار کرتا ہے کہ الْحَمْدُ لله رب العلمین۔تو اس کی روز مرہ کی زندگی کا اس اقرار سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔پس جب نماز پڑھتے ہوئے آپ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعُلَمِينَ کہتے ہیں تو اس آئینے میں اپنی صورت دیکھا کریں اور غور کیا کریں کہ آپ کے روز مرہ کے زندگی کے تجارب میں کتنی مرتبہ عملاً آپ نے واقعی حمد خدا ہی کے حضور پیش کردی۔جو حمد بنی نوع انسان نے آپ کے حضور پیش کی آپ نے اسے اپنا نہیں سمجھا بلکہ کامل عاجزی اور انکسار کے ساتھ التَّحِيَاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوتُ وَالطَّيِّبَاتِ کہتے ہوئے اس حمد کو خدا ہی کے حضور پیش کر دیا کیونکہ سب تھے اس کے حضور پیش کرنے کے لائق ہیں اور خود اس حمد سے خالی ہو گئے۔اگر آپ ایسا کرنے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرلیں تو آپ کا دل حمد سے خالی نہیں رہے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ اس حمدہ کو ہمیشہ پڑھا کر واپس کرتا ہے جو اس کے حضور پیش کی جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں انسان واقعی لائق حمد بننا شروع ہو جاتا ہے۔پھر جو اس کی حمد کی جاتی ہے وہ خدا کی آواز کے ساتھ حمد کی جاتی ہے۔خدا کی آواز دلوں میں حرکت پیدا کرتی ہے۔خدا کی آواز ذہنوں پر قابض ہوتی ہے اور بنی نوع انسان سے ایسے شخص کی حمد کے جو گیت اٹھتے ہیں وہ اسے محمود اور محمد بنا دیتے ہیں اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا نام