ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 111
111 خدا! عبارت تو تو نے فرض کر دی اور کم سے کم پانچ وقت روزانہ کے لئے فرض کردی لیکن ہمیں یہ نہ بتایا کہ اس عبادت کو کس طرح لذت سے بھریں کیونکہ سورۂ فاتحہ نے ب کچھ سکھایا ہوا ہے اور یہ تو بہت محدود ساذکر ہے۔بے شمار ایسے راز ہیں جو سورۂ فاتحہ میں خزانوں کی طرح دفن ہیں۔آپ ان کو پاتے چلے جائیں، ان پر غور کرتے چلے جائیں خدا ان کو ظاہر فرماتا چلا جائے گا۔ہم اپنے غور سے نہیں پاسکتے مگر دل کو جتنا پاک کرتے چلے جائیں گے اللہ تعالٰی خود آپ پر یہ مضامین ظاہر فرماتا چلا جائے گا۔لا يمسه إلا المُطَهَّرُونَ (سورة الواقعه : آیت (۸۰) کے مضمون کو پیش نظر رکھیں کہ سوائے ان لوگوں کے جن کو خدا پاک کر دیتا ہے کوئی قرآن کریم کے مضامین کو چھو نہیں سکتا۔پس کسی چالا کی کی ضرورت نہیں ہے۔انسانی ذہن مختلف قسم کے ہیں۔کوئی زیادہ قابل کوئی کم قابل کوئی زیادہ عالم کوئی کم عالم لیکن سورہ فاتحہ کے مضمون کو سمجھنے کے لئے دل کے پاک ہونے کی ضرورت ہے اور دل کلیتہ " پاک ہو نہیں سکتا سوائے اس کے کہ اللہ تعالی پاک کرے اور جتنا پاک کرے وہی کرے۔تو قرآن کریم نے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ لا يَمَسُّة إِلَّا الْمُطَهَرُونَ کہ صرف پاک لوگ اس کتاب کے مضمون کو چھو سکتے ہیں بلکہ فرمایا : لا يَمَةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ وہی لوگ اس کے مضمون کو چھو سکتے ہیں جنہیں پاک کیا جاتا ہے اور پاک کرنے والا خود خدا ہے۔پس جتنا آپ سورہ فاتحہ کے مضمون پر غور کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے ، تان اس بات پر ٹوٹے گی کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اے خدا! ہم نے خوب سیر کی خوب لطف اٹھائے لیکن بہت کچھ دیکھنا باقی ہے اور جو کچھ دیکھا اس سے فائدہ اٹھانا باقی ہے۔اسے مستقلاً اپنے وجود کا حصہ بنالیتا باقی ہے۔پس اناكَ نَعْبُدُ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔دَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔پھر مختلف نظاروں کے ساتھ ہی نہیں، مختلف اوقات کے ساتھ بھی سورۂ فاتحہ کا مضمون بدلتا چلا جاتا ہے اور خدا کی حمد مختلف سورتوں میں ہمارے سامنے ظاہر ہوتی ہے۔فرمایا : سَيْحَ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا (سورۃ ڈرا : آیت (۱۳۱) کہ اللہ کی حمد اس کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کیا کرو۔