ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 107
107 بجلی سے پہلے خوف پیدا ہوا اور انسان ڈر گیا اور لرزنے لگا۔پھر مزید غور کیا تو اس کو پتہ چلا کہ خدا محض ڈرانے والی باتیں تو نہیں کیا کرتا۔محض ہلاکت پیدا کرنے والی چیزیں تو نہیں پیدا کیا کرتا۔اگر کوئی ایسی چیز ہمیں دکھائی دیتی ہے تو اس کے اندر ضرور کوئی چھپی ہوئی خیر ہے اور اس کی خیر اس کے ظاہری شریر یقیناً غالب ہے۔اس مضمون کو وہ تفصیل سے خواہ نہ بھی سمجھ رہا ہو لیکن اگر الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کے مضمون کو سمجھتا ہے تو لازما " اس کے دل میں بجلی کے لڑکوں کو دیکھ کر بھی خوف کے بعد حمد کا مضمون پیدا ہو گا اور وہ من جملہ اس حقیقت کا اعتراف کرے گا کہ خدا کے ہر جلوے میں حسن ہے خواہ وہ جلوہ بظاہر ایک نہایت ہی خوف ناک منظر پیدا کر رہا ہو۔ایک دل ڈرانے والا اور ہول پیدا کرنے والا جلوہ دکھائی دیتا ہو اس کے اندر حمد ضرور بجلی کے کڑکے میں حمد کے بے شمار پہلو اب آپ مزید غور کریں کہ وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے علم عطا فرمایا ہے وہ بجلی کے مضمون پر غور کریں تو ان کی حمد نسبتا زیادہ حمد کی مستحق حمد ہوگی۔یہ مضمون بیان کرنا ذرا مشکل تھا۔اس لئے مجھے سمجھانے میں وقت لگا۔حمد تو ہر حالت میں خدا ہی کو واجب ہے اس میں تو کوئی شک نہیں لیکن کس حد تک ہمیں علم ہے کہ وہ حمد کا مستحق ہے۔یہ مضمون اس کی حمد میں مزید وسعت پیدا کر دیتا ہے پس مکملی کو دیکھنے والا ایک سادہ لوح زمین دار یا ایک بچہ بھی کچھ نہ کچھ اس سے مرعوب ہو کر خدا کی حمد کے گیت گا سکتا ہے اور انہیں معنوں میں گا سکتا ہے کہ اچھا اور کچھ نہیں تو اے خدا! تو ہی اس بیلٹی کا مالک ہے مجھے بچالے اور یہی میری حمد ہے۔لیکن جتنا زیادہ علم بڑھے گا اتنا زیادہ بجلی سے تعلق رکھنے والا حمد کا مضمون بھی پھیلتا چلا جائے گا۔اب دنیا کے سائنس دانوں نے بجلی پر جو غور کیا ہے تو ایک بات اس میں بڑی قطعی ہے جو عام لوگوں کو معلوم نہیں کہ بجلی کے بغیر پانی برس ہی نہیں سکتا۔پس ایک سادہ لوح بے علم آدمی کی حمد بھی اپنی توفیق کے مطابق چونکہ حمد کے جذبے سے بیان کی گئی ہے اس لئے خدا کو مقبول ہوگی لیکن اس کی حمد میں وہ لذت نہیں پیدا ہو سکتی جو لذت اس مضمون کا علم رکھنے والے کی حمد میں ہوگی