ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 8
لله رب العلمین پڑھتے وقت اگر انسان ٹھہر کے سوچے اور خدا تعالیٰ کی ذات کی وسعت اور عظمت کا تصور کرے اور جس طرف نظر ڈالے وہاں حمد ہی کا مضمون دکھائی دے تو کیا یہ ممکن ہے کہ ایک انسان ساری عمر سورۂ فاتحہ پڑھتے وقت صرف الحمدُ لله رب العلمین کا حق ادا کر سکے بالکل ناممکن ہے۔پس کون کہتا ہے کہ یہ بار بار دھرائی جانے والی ام الکتاب انسان کے لئے بوریت اور اکتاہٹ کا مضمون پیدا کرتی ہے اکتاہٹ کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ہرگز نہیں۔ہر انسان کی اکتاہٹ اس کے اندر سے پیدا ہوتی ہے۔اگر اسے محبت کا سلیقہ نہیں تو ہر چیز سے وہ اکتا جائے گا۔اچھی سے اچھی چیز بھی اس کو بھلی معلوم نہیں ہوگی۔پس اگر اکتاہٹ سے پناہ مانگتی ہے تو اپنے اندر محبت کا سلیقہ پیدا کریں۔آپ دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ کسی بات سے بھی خوش نہیں ہوتے۔ان کے ماتھے پر تیوری چڑھی ہوئی مجھ چیز مرضی دیں کہ نہیں جی! فضول بکواس ہر چیز پر تنقید کرتے۔ہر چیز ان کو بری لگتی ہے۔قنوطی جیسے جہاں جاتے ہیں لوگوں کو مصیبت پڑ جاتی ہے۔اس لئے نہیں کہ ان کے سامنے خدا کی کائنات حمد سے خالی ہوتی ہے۔اس لئے نہیں کہ دنیا میں اچھے لوگوں کا فقدان ہوتا ہے یا خوبیاں ہی دنیا سے غائب ہو چکی ہوتی ہیں۔پس ان کے اندر ایک پیوست پائی جاتی ہے۔ایک ایسی خشکی ہوتی ہے جو ان کو محبت سے عاری کر دیتی ہے۔پس اگر محبت کی نظر پیدا کریں یعنی حسن دیکھنے اور اس سے استفادے کی نظر پیدا کریں تو خدا تعالیٰ کی حمد آپ کو ساری کائنات میں عظیم تر وسعتوں کے ساتھ اس طرح بکھری ہوئی اور پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ ایک ذرے کے دل میں بھی آپ اتر جائیں تو اس میں بھی حمد کا ایک نیا جہان آپ کو دکھائی دینے لگے گا۔پھر خدا رحمان بھی ہے اور رحیم بھی ہے اور ملک یوم الدین بھی ہے ان صفات باری تعالٰی کے ساتھ آپ حمد کو باند ھیں تو پھر آپ دیکھیں کہ کتنے کتنے نئے حسین نقشے کائنات کے آپ کے سامنے ابھرتے ہیں اور ہر نقشے کے ساتھ خدا کی ہستی کا تصور وابستہ ہوتا ہے۔ہر حسین چیز کو خدا تعالیٰ حسن عطا کر رہا ہوتا ہے تو وہ نماز لذت سے کیسے خالی ہو جاتی ہے جس نماز میں سورہ فاتحہ پڑھی جاتی ہو اور بے پناہ حسن کے جہان وہ ایک نظر کے سامنے کھولتی چلی