ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 103 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 103

103 انسان ہیں جنہوں نے اس کو بنانے میں حصہ لیا ہے اور اس وقت اس دنیا میں بھی جس کارخانے میں وہ بنا ، ٹیلی ویژن کی ساری ضرورتیں اس کارخانے میں پوری نہیں ہوئیں بلکہ دنیا کے مختلف کارخانوں سے کچھ پرزے حاصل کئے گئے ، کچھ ٹیکنالوجی عاریتہ گلی گئی کوئی اور مدد حاصل کی گئی تو اس کی تعریف ٹیلی ویژن میں تو مجتمع ہوئی لیکن بنانے والوں کے لحاظ سے منتشر ہو گئی اور بے شمار انسانوں کے حصے میں آئی اور مختلف زمانوں کے حصے میں آئی۔رب العالمین کی حمد خدا تعالٰی کے متعلق جب ہم الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کہتے ہیں تو اس کی تخلیق کی ہر صنعت کی ہر خوبی بہت سے علوم کا تقاضا کر رہی ہے۔بہت سی صفات کا تقاضا کر رہی ہے اور خدا کی صنعت پر واقعہ " ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ۔واقعہ " ہر تعریف کے لائق وہ ذات ہے جس نے یہ سب کچھ بنایا ہے۔پس صرف اس وقت کی تعریف نہیں بلکہ ان تمام زمانوں کی تعریف ہے جن زمانوں کی طرف المین کا لفظ اشارہ کر رہا ہے اور اس تمام کائنات کے ہر ذرے میں موجود صفات کی تعریف جن کی طرف لفظ العلمین اشارے کر رہا ہے، یہ مجتمع ہو کر پھر بکھرتی نہیں بلکہ ایک ذات میں اکٹھی ہو جاتی ہیں اور وہ ذات اللہ ہے تو اگر آپ صرف ایک جانور کو اپنے پیش نظر رکھ لیں اور اس کی تخلیق کے مختلف مراحل میں مختلف قسم کے جتنے علوم کی ضرورت پیش آسکتی ہے اور جتنی مختلف صفات کی ضرورت پیش آسکتی ہے کہ جن صفات کے بغیر وہ چیز بن نہیں سکتی۔اور اسی طرح ہر وہ چیز جس پر آپ نظر ڈالیں اور گہری نظر ڈالیں وہ قابل تعریف دکھائی دے تو اس کے بنانے والے کی ہر صفت قابل تعریف ہو جائے گی کیونکہ وہ وجود ان تمام صفات کی جلوہ گری کا ایک آخری مظہر ہے یعنی آخری صورت میں ظاہر ہونے والا منظر ہے جو آپ کو دکھائی دے رہا ہے۔پس خدا تعالٰی کے لئے جب ہم الْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کہتے ہیں تو دنیا کے ہر مشاہدے میں آپ کو خدا تعالیٰ کی ایک صفت کی بجائے بیسیوں بلکہ سینکڑوں بلکہ جتنا آپ کا علم بڑھتا چلا جائے گا اتنی ہی زیادہ صفات دکھائی دینے لگیں گی اور ہر صفت