ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 97 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 97

97 حاصل نہیں دنیا کے ایمان خرید رہی ہیں تو تو ہی ہے جو اس دنیا وی دولت کے شر سے لوگوں کو مسیح موعود اور آپ کی جماعت کی دعاؤں کی برکت سے بچائے۔یہ اپنے ایسے عظیم ہتھیاروں کے ذریعے جو پہاڑوں کی طرح بلند ہیں اور جن کی ڈھیریاں پہاڑوں کے برابر ہیں اور جن کے اندر ہلاکت کی ایسی طاقتیں ہیں کہ صرف اگر ایٹم بم کو ہی استعمال کیا جائے یعنی ایٹم بم کے ان ذخائر کو استعمال کیا جائے جو امریکہ اور روس میں ہیں تو سائنس دان بتاتے ہیں کہ یہ ساری دنیا بیسیوں مرتبہ ہلاک کی جاسکتی ہے اور ان میں اتنی ہلاکت کی طاقت ہے کہ صرف دنیا میں بسنے والے انسان ہلاک نہیں ہوں گے بلکہ اس دنیا سے زندگی کا نشان تک مٹ سکتا ہے۔پس یہ دعا کرنی چاہئیے کہ اے خدا ! تو نے ان بدبختوں کو دولتیں بھی اتنی دے دیں کہ ان کے مقابل پر سارے عالم اسلام کی مجموعی دولت بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور پھر ہتھیار بھی ان کو ایسے عطا فرما دیئے کہ جن میں سے صرف ایک ہتھیار کے ایک حصے کو استعمال کر کے یہ دنیا کی بڑی بڑی قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی اہلیت رکھتے ہیں اور مقابل پر ہمیں احمدیوں کو کھڑا کر دیا ہے جن کے پاس کچھ بھی نہیں جو ایک بہت ہی غریب جماعت ہیں۔لیکن ساتھ ہی ہمیں خوش خبری بھی دی اور یہ خوش خبری دی کہ تمہاری دعاؤں کو میں سنوں گا اور ان دعاؤں کی برکت سے میں بالآخر ان عظیم قوموں کو پارہ پارہ کردوں گا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم نے نقشہ یہ کھینچا ہے کہ جس طرح نمک سے برف کھلتی ہے اس طرح تمام وجائی طاقتیں جو انسانیت اور حق کی دشمن ہیں وہ برف کی طرح پگھل کر غائب ہو جائیں گی جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا دعاؤں کی طاقت آپ کے پاس ہے۔اس عظمت کو پہچانیں اور یاد رکھیں کہ یہ عظمت انکساری میں ہے۔اس بات کو کبھی نہ بھولیں۔دنیا کی طاقتوں اور مذہبی طاقتوں میں یہ بنیادی فرق ہے۔دنیا کی طاقتیں تکبر پر منحصر ہوتی ہیں اور مذہبی طاقتیں بجز پر منحصر ہوتی ہیں۔پس دعا میں اتنی زیادہ رفعت پیدا ہوگی جتنا آپ خدا کے حضور جھکیں گے۔دعا میں اتنی ہی زیادہ طاقت پیدا ہو گی جتنا آپ بے طاقتی محسوس کریں گے۔آپ کی بے بسی کے نتیجے میں دعاؤں کو قوتیں عطا ہوں گی۔پس اس مضمون کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہوئے اس رمضان سے حتی المقدور فائدہ