ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 52
52 ہے۔علم کا یہاں کوئی ذکر نہیں کہ خدا عالم الغیب بھی ہے۔اس بات پر غور کرتے ہوئے ہ مضمون ذہن میں ابھرتا ہے جس کا میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ در حقیقت یہ چاروں صفات ام الصفات ہیں۔اور کوئی ایک صفت بھی ایسی نہیں جو ان کے اثر سے باہر ہو۔بعض دفعہ ایک صفت سے کئی دوسری صفات پیدا ہوتی ہیں۔بعض دفعہ مختلف صفات سے مل کر بعض صفات پیدا کرتی ہیں اور آپس میں ان کے تعلقات کے اولنے بدلنے سے نئے مضامین ابھرتے ہیں اور بعض دفعہ ہماری نظر نہیں ہوتی کہ ہم ایک صفت میں دوسری صفات موجود دیکھ سکیں لیکن موجود ہوتی ہیں اور قرآن کریم کا مطالعہ ہماری توجہ ان کی طرف مبذول کرواتا ہے اور بتاتا ہے کہ دیکھو اس کھڑکی کے رستے یہ روشنی بھی دکھائی دینی چاہیے تھی مگر دکھائی نہیں دی مگر قرآن کریم مددگار بنتا ہے اور سارے قرآن کریم کے مطالعہ کے بعد یہ حقیقت ایک یقین کے طور پر دل میں ہمیشہ کے لئے جاگزین ہو جاتی ہے کہ سورۂ فاتحہ کو اُم الصفات کہنا محض ایک جذباتیت کی بات نہیں تھی ، ایک جذباتی تعلق کے نتیجے میں نہیں تھا بلکہ گہرے ٹھوس علم کے نتیجے میں ہے اور یہی حقیقت ہے۔مثلاً میں نے علم کا ذکر کیا کہ خدا کو ہم سورۂ فاتحہ کے علاوہ جانتے ہیں کہ عالم الغیب ہے، عالم الشہادۃ ہے اور حاضر کو جانتا ہے، غائب کو جانتا ہے۔ماضی کو جانتا ہے۔مستقبل کو بھی جانتا ہے لیکن سورۂ فاتحہ میں تو کوئی ایسا ذکر نہیں ملتا۔پھر انسان قرآن کریم کے مطالعہ میں یہ بات پڑھ کر اچانک حیران رہ جاتا ہے کہ الرَّحْمٰنُ عَلم الْقُرْآنَ - خَلَقَ الإِنْسَانَ عَلَمَهُ الْبَيَان۔(سورہ رحمان : ۲-۵) کہ یہ رحمان ہے جس نے قرآن سکھایا۔اب رحمانیت کا علم سے کوئی تعلق ہے ورنہ رحمان کو قرآن سکھانے والا کیوں قرار دیا گیا۔یہ کہنا چاہیے تھا کہ وہ علام الغیوب ہے، عالم ہے، علیم ہے جس نے قرآن سکھایا۔کیونکہ علم سکھانے والے کو تو عالم کہا جاتا ہے یا علیم کہا جاتا یا علامہ کہا جاتا ہے۔رحمان تو نہیں کہا جاتا تو رحمانیت میں علم کا کون سا جزو پایا جاتا ہے یا کون سی مشابہت ان صفات میں پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے قرآن کریم جو تمام علوم میں سب سے زیادہ جامع ہے اور سب سے اونچا مقام رکھتا ہے اور سب سے زیادہ گہرائی رکھتا ہے اس کو علیم کی طرف منسوب کرنے کی بجائے رحمان کی طرف منسوب کر دیا۔