ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 512 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 512

512 آلہ وسلم کا ہے اور اسی کا دوسرے لفظوں میں بیان یوں ہوا کہ لا الهَ إِلَّا الله مُحمد رسُولُ اللهِ تو نماز نے چونکہ درجہ بدرجہ ہماری تربیت کی اور سورۂ فاتحہ کا مضمون ہم پر مزید کھلتا چلا گیا۔اس مضمون کا معراج یہ کلمہ ہے، اشْهَدُ أن لا إله إِلَّا اللهُ وَحْدَل لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولَهُ - لیکن یہاں یہ کلمہ تجربے کے بعد بیان ہوا ہے۔نظریاتی طور پر نہیں۔سورۂ فاتحہ نے ہمیں خدا سے تعلقات کے ایسے تجارب سے گزارا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا مقام ہم پر اس طرح ظاہر فرما دیا کہ تحفہ دیتے وقت سب سے پہلے خدا کی ذات کا تصور ذہن میں آیا اور اس کے معا بعد حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کا تصور ذہن میں آیا۔پس اس مضمون نے ہمیں یاد کرایا کہ لا إله إلا الله محمد رسول الله حقیقت میں دو ہی چیزیں ہیں۔اللہ کی ذات اور محمد رسول اللہ۔باقی - سب افسانے ہیں۔باقی وہ ہیں جو ان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ تعلق کی بناء پر ان کا وجود بنتا ہے۔درود میں حضرت ابراہیم کے ذکر کی حکمت یہاں تک سورہ فاتحہ کا سفر حاضر اور مستقبل کا سفر تھا۔اس میں حاضر کے طور پر مخاطب کیا جا رہا ہے اور حاضر یا مستقبل کے طور پر دعائیں مانگی جا رہی ہیں۔اب نماز آپ کو دوسرے زمانوں کا سفر بھی کرائے گی اور پہلوں کی یادیں بھی آپ کے لئے لے کر آئے گی۔چنانچہ آپ دیکھیں۔شروع سے آخر تک جب تک ہم کلمہ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ میں پڑھتے اور یہ شہادت نہیں دیتے اس وقت تک ہماری ساری دعائیں حاضر اور مستقبل سے تعلق رکھنے والی دعائیں ہیں۔ان معنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر دعا بھیجتے وقت بھی آپ کو ماضی کے وجود کے طور پر مخاطب نہیں کیا گیا بلکہ ایک حاضر وجود کے طور پر مخاطب کیا گیا ہے اور اس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ آپ کا زمانہ زندہ ہے۔آپ ایک ایسے زندہ نبی ہیں جو زمانی لحاظ سے ماضی میں نہیں رہے بلکہ حال کے بھی نبی ہیں اور مستقبل کے بھی نبی ہیں۔اس ”اب تک" کا جو مضمون تھا وہ چونکہ حاضر اور مستقبل کے زمانے سے تعلق رکھتا تھا اس لئے آپ کا ذکر ان لوگوں میں