ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 511 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 511

511 اور اپنے ساتھ تمام مومنین کو شامل کر لیا خواہ وہ موجود ہوں یا نہ ہوں۔اس لئے اس مضمون میں موجودگی کی کوئی بحث نہیں ہے۔صرف ایک درجہ بدرجہ مرتبے کی کا رہی ہے اور ایک حسن کلام ہے جو اس شان کے ساتھ اپنے پہلو بدل رہا ہے۔و عَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّلِحِينَ - پھر تمام صالح بندوں پر سلامتی بھیجی گئی۔اس مضمون پر جا کر سورۂ فاتحہ سے ہم نے جو مضامین سیکھے تھے وہ اپنے درجہ کمال کو پہنچ گئے اور خدا تعالیٰ کی حمد کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مدح کی اور اپنے لئے اور تمام مومنین کے لئے ہر قسم کی دعائیں ہم نے اس میں مانگیں۔اللہ تعالیٰ سے ذاتی تعلقات قائم کئے۔آپ اس کے بعد یہ سوال ہے کہ اشهَدُ أن لا إلهَ إِلَّا الله کا کیا موقعہ ہے اور اس مقام پر اسے کیوں سجایا گیا ہے؟ میں نے جہاں تک غور کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ کلمہ لااله الا الله در حقیقت سورۂ فاتحہ میں موجود ہے اور إِلَّا محمد رسول اللهہ بھی سورہ فاتحہ میں موجود ہے اور یہ مضمون سورہ فاتحہ ہی کا ہے جو یہاں آکر کامل ہوتا ہے اور ہمیں ایک نئی طرز پر بتایا جا رہا ہے۔جب ہم اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہتے ہیں تو یہاں صرف معبود کے طور پر خدا کا اقرار ہی نہیں کرتے بلکہ انسان کہہ کر ساتھ غیب کی نفی بھی کر رہے ہیں تو حقیقت میں لالة إِلَّا الله کا مضمون إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں بہت شان کے ساتھ گویا مختلف لفظوں میں بیان ہو جاتا ہے۔اس کے بعد جب ہم انعمت علیم کے مضمون میں داخل ہوتے ہیں تو سب سے بڑا نبی جس پر سب سے زیادہ انعاموں کی بارش کی گئی وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم ہی تھے۔اسی لئے نماز میں جب ہم یہ دعا مانگتے ہیں کہ ان لوگوں کے رستے پر چلا جن پر تو نے انعام فرمایا تو سب سے زیادہ واضح طور پر جو نبی انسان کے ذہن پر چھا جاتا ہے وہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہیں۔آپ ہی ہیں جو ذہن پر چھاتے ہیں۔آپ ہی ہیں جو دل میں سا جاتے ہیں اور حقیقت میں آپ کے نام کے ساتھ باقی سب نبیوں کا نام شامل ہو جاتا ہے۔پس انعام یافتہ لوگوں میں سب سے اہم ذکر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علیٰ